
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر رکھے گئے کنٹینرز ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مجوزہ لانگ مارچ کے پیش نظر تقریباً 25 روز قبل لگائی گئی ان رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے کرینیں اور لفٹرز مختلف مقامات پر پہنچا دیے گئے ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد سہیل چوہدری نے متعلقہ حکام کو تمام راستوں سے فوری طور پر کنٹینرز ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق شام تک تمام راستے کھولنے کا ہدف دیا گیا ہے، جبکہ تھانوں کے باہر موجود کنٹینرز ضروری کارروائی کے بعد اصل مالکان کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ کنٹینرز ہٹانے کا آغاز شاہراہ دستور سے کیا گیا جس کے بعد دارالحکومت کے دیگر علاقوں میں بھی رکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں، تاہم ریڈ زون کے حساس مقامات پر سیکیورٹی انتظامات تاحال برقرار ہیں۔ سڑکوں کی طویل بندش اور موبائل سروس کی معطلی کے باعث شہریوں اور مسافروں کو روزمرہ آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کنٹینرز ہٹائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے عوام کی مشکلات ختم ہوں گی اور معمولات زندگی بحال ہو جائیں گے۔ پی ٹی آئی لانگ مارچ اور سیکیورٹی صورتحال: پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں کو بند کیا گیا تھا۔ پارٹی نے ابتدا میں مارچ کے لیے 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی تھی، جسے بعد ازاں حکومت سے مذاکرات کی غرض سے 4 اکتوبر تک ملتوی کیا گیا۔ اس دوران حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مختلف سیاسی مطالبات اور بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی سے متعلق بات چیت ہوئی، لیکن کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی اور سیاسی تناو برقرار رہا۔ خیبر پختونخوا کے معاملات اور گورنر راج: سیاسی کشیدگی کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکلز 232(1) اور 234(1) کے تحت اس اقدام کی منظوری دی۔ مجوزہ منصوبے کے تحت گورنر کی مدد کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کا ذکر کیا گیا جس میں طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامر عبداللہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر، ثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی، عامر جاوید، ڈاکٹر ایم ارشاد، کفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق شامل بتائے گئے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے منسوب بیان کے مطابق وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے اختیارات گورنر کو منتقل کرنے اور 12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کی بات کہی گئی۔ امن و امان کی بحالی کے لیے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کا بھی ذکر ہوا۔ پی ٹی آئی رہنماوں نے ان اقدامات کی مخالفت کی، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت بعض رہنماوں کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی گورنر راج کے نفاذ کو سیاسی عمل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے معاملات بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا۔ عوام کے لیے ریلیف: اسلام آباد کی سڑکوں سے کنٹینرز ہٹائے جانے سے کئی ہفتوں بعد شہریوں اور مسافروں کو بڑا ریلیف ملنے کی امید ہے۔ ریڈ زون میں سیکیورٹی برقرار رہنے کے باعث ٹریفک مرحلہ وار بحال کی جا رہی ہے، اور شہریوں کو سفر سے قبل ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
News Source: Express News