
تفتیش کاروں کے مطابق امریکی یونیورسٹی میں جعلی داخلے اور ویزا اسکیم میں لائبہ اعجاز کے ساتھ فراڈ کرنے والے ملزم نے مبینہ طور پر خود کو متعدد افراد ظاہر کرنے اور دھوکے کو سچ دکھانے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم محمد نعمان کو معلوم ہوا کہ لائبہ امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں، جس پر ملزم نے مبینہ طور پر خود کو یونیورسٹی ایڈمیشن، اسکالرشپ اور اسٹوڈنٹ ویزا دلوانے کے اہل شخص کے طور پر پیش کیا۔ تفتیش کاروں کے الزامات کے مطابق نعمان نے آن لائن جعلی شناختیں بنائیں، جن میں عائزہ نامی خاتون اور امریکا میں مقیم اس کا بھائی شامل تھے۔ ملزم یہ تمام اکاونٹس خود چلا رہا تھا جبکہ لائبہ کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ داخلے کے عمل میں شامل مختلف افراد سے رابطہ کر رہی ہیں۔ تفتیش میں ایک اہم انکشاف ان جعلی شناختوں کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی سے تیار کردہ جوابات کا مبینہ استعمال ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ اس مصنوعی ذہانت کے ٹول نے ملزم کو لائبہ کے سوالات کے جوابات دینے اور یہ تاثر قائم رکھنے میں مدد کی کہ کئی حقیقی افراد اس کے کیس کو دیکھ رہے ہیں۔ لائبہ اور اس کے اہلخانہ کو مبینہ طور پر بتایا گیا کہ انہوں نے امریکا میں تعلیم کے لیے اسکالرشپ حاصل کر لی ہے۔ ملزم نے اپنے دعووں کو سچ ثابت کرنے کے لیے جعلی ایڈمیشن لیٹرز، اسکالرشپ کی دستاویزات، ویزا سے متعلق کاغذات اور فیسوں کی رسیدیں بھی فراہم کیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق جب امریکی ویزا انٹرویو کی تاریخ بار بار تبدیل کی گئی تو لائبہ کو شک ہوا۔ اس کے بعد جب انہوں نے دستاویزات کی تصدیق شروع کی تو انکشاف ہوا کہ داخلے سے متعلق تمام کاغذات مبینہ طور پر جعلی تھے۔ اس کیس میں مبینہ طور پر 9.3 ملین روپے کا فراڈ شامل ہے، جو تفتیش کاروں کے مطابق ایڈمیشن، اسکالرشپ اور امریکی اسٹوڈنٹ ویزا کے بہانے لائبہ اور ان کے اہلخانہ سے وصول کیے گئے۔ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ تفتیش کار اس کے آلات اور آن لائن سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس اسکیم میں چیٹ جی پی ٹی کے استعمال سمیت تمام الزامات تاحال تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ماتحت ہیں۔
News Source: Express News