کراچی میں قیمتی پلاٹوں میں مبینہ بے ضابطگی، کے ڈی اے کے تین ملازمین سے جواب طلب

News Image

کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں قیمتی رہائشی پلاٹ کو کمرشل بنانے کے معاملے پر مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے تین ملازمین سے جواب طلب کر لیا گیا ہے۔ کلفٹن میں واقع 1559.77 مربع گز کے رہائشی پلاٹ کو کمرشل بنانے سے متعلق نوٹ شیٹ نے ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ سے لے کر جونیئر کلرک تک تین اہلکاروں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کے ڈی اے میں زمینوں کے معاملات پر سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ کلفٹن کے پوش علاقے میں رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں بدلنے کی نوٹ شیٹ پر دستخط اور منظوری کا معاملہ اعلی حکام کے نوٹس میں آنے کے بعد تینوں اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں اور ان سے تین روز کے اندر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ 12 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والے ان الگ الگ نوٹسز نے کے ڈی اے کے لینڈ مینجمنٹ نظام میں اختیار کیے گئے طریقہ کار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معاملہ کلفٹن کی کے ڈی اے اسکیم پانچ کے بلاک 8 میں واقع پلاٹ نمبر ڈی 21 کا ہے، جس کی رہائشی حیثیت تبدیل کر کے کمرشل کرنے کی کارروائی نوٹ شیٹ کے ذریعے چلائی گئی۔ نوٹسز کے مطابق جونیئر کلرک حماد سالار نے نوٹ شیٹ شروع کر کے دستخط کیے، جسے ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ راشد حسین نے آگے بڑھایا، جبکہ ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ سید عاطف حسین نقوی نے اس پر دستخط اور حتمی منظوری دی۔ اب ان تینوں سے دریافت کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی کن قوانین اور ضوابط کے تحت عمل میں لائی گئی؟ کے ڈی اے سیکریٹریٹ نے اس معاملے پر وضاحت پیش کرنے کے لیے تین دن کی مہلت دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ نوٹسز کی نقول ڈائریکٹر جنرل اور سیکریٹری کے ڈی اے سمیت دیگر اعلی حکام کو بھی بھیج دی گئی ہیں۔ اب کے ڈی اے انتظامیہ کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ کیا رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کرنے کی یہ کارروائی قواعد کے مطابق ہوئی؟ نوٹ شیٹ کس بنیاد پر تیار اور منظور کی گئی اور کیا تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے؟ ان سوالات کے جوابات سرکاری ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور متعلقہ افسران کی وضاحت کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔ تین شوکاز نوٹسز نے معاملے کو انتہائی اہم بنا دیا ہے، تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین مکمل تحقیقات اور دستیاب ریکارڈ کے جائزے کے بعد ہی کیا جائے گا۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم