
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ رہبر معظم مجتبی خامنہ ای سے سات گھنٹے طویل ملاقات میں ملک کے انتظامی مسائل اور حکومتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق ایرانی صدر پزیشکیان نے یہ بات جامعات کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ مسعود پزیشکیان نے مزید بتایا کہ ایران کا صدر منتخب ہونے کے بعد گزشتہ سات ماہ میں ان کی مجتبی خامنہ ای سے دو مرتبہ ملاقات ہوئی ہے۔ ایرانی صدر نے ملک کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں وسائل یا صلاحیتوں کی کمی بنیادی مسئلہ نہیں بلکہ اہل افراد کے انتخاب، بہتر انتظام اور کیے گئے فیصلوں پر موثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ صدر مسعود پزیشکیان نے بعض سرکاری اداروں اور کمپنیوں کے انتظامی طریقہ کار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ سرکاری کمپنیوں میں جاری معاملات کو درست معنوں میں انتظام نہیں کہا جا سکتا جس سے نظام حکومت میں اصلاحات کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔ انہوں نے اعلی سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بعض اوقات کسی موزوں امیدوار کو ذمہ داری سونپنا چاہتی ہے لیکن بعد میں عدلیہ یا دیگر اداروں کے اعتراضات کے باعث تقرری کا عمل متاثر ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ 29 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبی خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے لیکن وہ تاحال کسی بھی مقام پر منظر عام پر نہیں آئے اور نہ ہی کوئی ویڈیو یا آڈیو پیغام آیا ہے۔ ان کے بیانات سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔
News Source: Express News