
کراچی (اسٹاف رپورٹر): قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے مشترکہ مسابقتی امتحان 2023 (سی سی ای-2023) میں بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کے حکام کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔ نیب کراچی نے سی سی ای-2023 میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ پڑتال کے لیے ایس پی ایس سی کو باقاعدہ طلبی کا نوٹس بھیجا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ نوٹس قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) 1999 کی دفعہ 19 کے تحت جاری کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تفصیلی ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نیب نے امتحانات میں کرپشن اور بدعنوان طریقوں سے متعلق ایک معتبر شکایت موصول ہونے پر این اے او 1999 کی دفعہ 18(ب) کے تحت اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن حیدرآباد کے سیکرٹری کو امتحانی عمل کے قانونی پہلووں کے جائزے کے لیے تمام دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیشن کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ قواعد و ضوابط پر عبور رکھنے والے کم از کم بی پی ایس-18 کے افسر کو نامزد کرے، جو 20 اکتوبر 2026 کو نیب کراچی کے دفتر میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہو اور درج ذیل دستاویزات کی مصدقہ نقول فراہم کرے: 1۔ قانونی اور انتظامی فریم ورک: امیدواروں کے کوٹہ اور اہلیت سے متعلق قوانین، قواعد، ضوابط اور مجاز اتھارٹی کے احکامات۔ سی سی ای-2023 کی درخواستیں طلب کرنے کے لیے شائع کیے گئے اشتہارات۔ 2۔ امتحانی نتائج اور اسامیوں کی تفصیل: 2 فروری 2026 کو جاری کردہ سی سی ای-2023 کے نتائج۔ ہر کیڈر میں مشتہر کی گئی اسامیوں اور تقرری کے لیے تجویز کردہ عہدوں کی تعداد۔ کوٹہ کے تحت اعلان کردہ اور دستیاب اسامیوں کے مکمل حسابات۔ اسکریننگ ٹیسٹ اور تحریری امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کا مکمل ڈیٹا۔ 3۔ میرٹ کا تعین اور الاٹمنٹ: امیدواروں کے میرٹ اور الاٹمنٹ کے تعین سے متعلق رپورٹ مع وہ مخصوص قواعد جن کے تحت میرٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ میرٹ کے حساب کے لیے استعمال شدہ فارمولے کی تفصیلات۔ 4۔ انٹرویو اور زبانی امتحان کا ریکارڈ: انٹرویو پینل کے ارکان کی تفصیلات، آفر لیٹرز، تقرری کے نوٹیفکیشنز، جوائننگ اور چارج چھوڑنے کی رپورٹس۔ امیدواروں کی انٹرویو اسیسمنٹ شیٹس، فائلیں اور انٹرویوز کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگز۔ 5۔ امیدواروں کی انفرادی فائلیں: تحریری امتحان دینے اور انٹرویو کے لیے کوالیفائی کرنے والے تمام امیدواروں کی علیحدہ علیحدہ فائلیں۔ نیب کی جانب سے جاری نوٹس میں سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ احکامات پر عمل نہ کرنے کو تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے، گمراہ کرنے یا انکوائری کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش سمجھا جائے گا۔ ایسی صورت میں این اے او 1999 کی دفعہ 31 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس کی سزا زیادہ سے زیادہ 10 سال قید ہے۔
News Source: Express News