
یمن کے ساحل کے قریب بحیرہ عرب میں مائع قدرتی گیس لے جانے والے ایل این جی ٹینکر پر ایک چھوٹی کشتی سے فائرنگ کی گئی جس میں سات افراد سوار تھے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز یو کے ایم ٹی او کے مطابق یہ واقعہ یمن کے شہر المکلا سے لگ بھگ 140 ناٹیکل میل جنوب مشرق میں پیش آیا۔ یو کے ایم ٹی او نے ہفتے کے روز بتایا کہ ٹینکر کے کپتان کی اطلاع کے مطابق سات افراد پر مشتمل چھوٹی کشتی جہاز کے قریب آئی اور اس پر گولیاں چلائیں۔ واقعے کے دوران ٹینکر پر تعینات مسلح سکیورٹی ٹیم نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دو انتباہی فائر کیے جس کے بعد حملہ آور کشتی نے اپنا رخ موڑ لیا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ 17 اکتوبر کو عالمی وقت کے مطابق صبح لگ بھگ 10 بج کر 30 منٹ پر رپورٹ کیا گیا۔ یو کے ایم ٹی او نے علاقے سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائرنگ کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ واضح رہے کہ بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر کے اطراف کے سمندری راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس علاقے میں حالیہ کشیدگی کے باعث دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
News Source: Express News