
آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز کے قریب ڈوبنے والے ایک مال بردار بحری جہاز سے نکالے گئے ایپل آئی فونز کو ایران میں ”مال غنیمت“ کے نام پر غیر معمولی کم قیمتوں پر فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پرو پاکستانی نے رپورٹ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ڈوبنے والے ایک کنٹینر جہاز سے حال ہی میں آئی فونز نکالے گئے تھے۔ اب انہیں ایران میں مارکیٹ سے انتہائی کم نرخوں پر فروخت کے لیے مشتہر کیا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز سینکڑوں ایرانی ماہی گیر چھوٹی کشتیوں میں سوار ہو کر آبنائے ہرمز میں گئے تاکہ سنگاپور کے پرچم بردار جہاز جی ایف ایس پرائیڈ سے گرنے والے نئے آئی فونز اور فرانسیسی پرفیوم اکٹھے کر سکیں۔ ایک وائرل ویڈیو میں ایک شخص نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ ایک کنٹینر جہاز ڈوب گیا ہے، اس لیے ہم آئی فونز اور پرفیوم جمع کرنے جا رہے ہیں۔ یہ جہاز 14 اکتوبر کو غرقاب ہوا تھا۔ ایرانی پولیس کی خریداروں کو تنبیہ ایران کی سائبر پولیس کے ڈپٹی ہیڈ کرنل جواد مختار رضائی نے خبردار کیا ہے کہ دھوکے باز سستے فونز کے جعلی اشتہارات لگا سکتے ہیں، ایڈوانس رقم یا ڈیلیوری فیس وصول کر سکتے ہیں اور پھر غائب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خریداروں پر زور دیا کہ فون دیکھنے اور فروخت کنندہ کی شناخت کی تصدیق سے پہلے کوئی ادائیگی نہ کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر فون اصلی بھی ہوں تو ان میں اندرونی خرابی ہو سکتی ہے، کیونکہ سمندری نمکین پانی سرکٹ بورڈز، بیٹریوں اور ڈسپلے کو برباد کر سکتا ہے۔ ایسے فونز جو ایران کے ہمتا ڈیوائس رجسٹریشن سسٹم میں رجسٹر نہیں ہو سکتے، وہ موبائل نیٹ ورک کی سہولت بھی کھو سکتے ہیں، اور خریداروں کو کوئی وارنٹی یا سرکاری رسید بھی نہیں ملے گی۔ حقیقت کیا ہے؟ سنگاپور کی میری ٹائم اتھارٹی نے جہاز ڈوبنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے پہلے بیان دیا تھا کہ جہاز غیر مجاز راستے پر سفر کے دوران ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا تھا۔ دوسری جانب، حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے اداروں، بشمول ایران کے فیکٹ نامہ اور الجزیرہ نے سمندر سے سامان نکالنے کی متعدد وائرل ویڈیوز کو اے آئی کی مدد سے بنائی گئی جعلی ویڈیوز قرار دیا ہے۔
News Source: Express News