فوجی حل ممکن نہیں، یمن تنازع کے خاتمے کے لیے تیار ہیں، ایران کی سعودی عرب کو بڑی پیشکش

News Image

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایران ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ دونوں وزرا نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ فوجی نقطہ نظر پر اصرار اور سیاسی حل کو نظر انداز کرنا موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ خطے کے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات کے آغاز میں مدد اور سیاسی حل کے حصول کے لیے ہر طرح کا تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں 12 سالہ تعطل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یمن کا کوئی فوجی حل نہیں، صرف سیاسی مذاکرات ہی پائیدار امن لا سکتے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا کہ جزیرہ نمائے عرب میں پیش رفت پر گہری تشویش ہے اور دو مسلمان ممالک کے درمیان دشمنی جاری نہیں رہنی چاہیے، خاص طور پر جب خطہ پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کی وجہ سے کشیدگی کا شکار ہے۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں 12 سے 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ 11 اکتوبر کو دوسرا حملہ بھی ہوا، جس کے بعد سعودی اتحادی افواج نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر جوابی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایران نے اسی دوران سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ اپنائے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم