
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کی خوراک میں ایک چھوٹی سی تبدیلی، یعنی میٹھے مشروبات کا استعمال کم کر کے پانی پینے کی عادت اپنانے سے موٹاپے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین کی زیر نگرانی ہونے والی تحقیق کے مطابق، میٹھے مشروبات میں کمی کے پروگرام میں شامل بچوں کے باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) میں 12 ماہ کے دوران دوسرے بچوں کے مقابلے میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ پروگرام امریکی ریاست میساچوسٹس کے مختلف کمیونٹی مراکز میں منعقد کیا گیا، جہاں بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں، کہانیوں اور عملی مشقوں کے ذریعے میٹھے مشروبات سے دور رہنے اور پانی پینے کی ترغیب دی گئی۔ محققین کے مطابق سافٹ ڈرنکس، میٹھے پھلوں کے مشروبات اور انرجی ڈرنکس بچوں کی خوراک میں اضافی چینی کے بڑے ذرائع ہیں۔ ان مشروبات میں موجود کیلوریز سے پیٹ بھرنے کا احساس نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے مجموعی کیلوریز کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور وزن میں اضافے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال بچوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور دانتوں کی خرابی کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو میٹھے مشروبات کے بجائے پانی پینے کا عادی بنانا بچپن کے موٹاپے کی روک تھام کے لیے ایک آسان اور قابل عمل طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی ہے۔
News Source: Express News