
امریکی ماہرین فلکیات نے مشتری کے حجم کے برابر ایک انتہائی سرد فلکیاتی جرم پر پانی کے بادلوں کی موٹائی میں تبدیلی کی پہلی براہ راست تصدیق کر دی ہے۔ ایریزونا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ماہر فلکیات برٹنی مائلز کی قیادت میں کام کرنے والی تحقیقی ٹیم نے جیمز ویب خلائی دوربین کی مدد سے وائز 0855 نامی براون ڈوارف کا 11 گھنٹے تک مشاہدہ کیا۔ یہ فلکیاتی جرم زمین سے تقریبا 7.5 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور اب تک دریافت ہونے والے سرد ترین براون ڈوارفس میں شمار ہوتا ہے، جس کا درجہ حرارت لگ بھگ 265 کیلون ہے۔ براون ڈوارف دراصل ایسے فلکیاتی اجرام ہوتے ہیں جن کی کمیت سیاروں سے زیادہ ہوتی ہے لیکن وہ اتنے بڑے نہیں ہوتے کہ ستاروں کی طرح جوہری عمل کے ذریعے اپنی توانائی پیدا کرنا شروع کر سکیں۔ تحقیق کے مطابق اس دنیا کی فضا میں موجود پانی کے بادل اس کی گردش کے دوران مسلسل موٹے اور پتلے ہوتے رہتے ہیں، جبکہ گہرائی میں موجود کیمیائی گیسیں بھی حرارتی عمل کی وجہ سے اوپر کی جانب منتقل ہوتی ہیں۔ سائنس دانوں نے ہر 15 منٹ بعد اس جرم سے آنے والی روشنی کا اسپیکٹرم ریکارڈ کیا، جس کی وجہ سے اس کی فضا میں ہونے والی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ ممکن ہو سکا۔ یہ اہم تحقیق سائنسی جریدے دی ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اہم دریافت دوسرے فلکیاتی اجرام کے موسمی اور فضائی نظام کو سمجھنے میں ایک بڑی پیش رفت ہے، اور اس سے نظام شمسی سے باہر موجود دنیاوں کے ماحول کا مطالعہ کرنے میں بھرپور مدد ملے گی۔
News Source: Express News