
آسٹریلوی حکام نے شہریوں کو چمگادڑوں سے دور رہنے کی سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان کے کاٹنے اور پنجے مارنے کے واقعات میں اچانک بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایک نایاب اور انتہائی مہلک وائرس پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں بیماری جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ نیو ساوتھ ویلز کے محکمہ صحت کے مطابق ریاست کے شمالی علاقوں میں 28 ستمبر سے 10 اکتوبر کے دوران چمگادڑوں کے کاٹنے یا نوچنے کے 43 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں ایسے واقعات کی تعداد محض 10 تھی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام واقعات ہنٹر ریجن، مڈ نارتھ کوسٹ، شمالی نیو ساوتھ ویلز اور سینٹرل کوسٹ کے علاقوں میں سامنے آئے ہیں۔ طبی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ آسٹریلین بیٹ لسا وائرس دراصل ریبیز سے ملتا جلتا وائرس ہے جو انسانوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ بیماری کی علامات سامنے آنے کے بعد اس کا کوئی حتمی علاج ممکن نہیں رہتا، البتہ وائرس کا شکار ہونے کے فوری بعد ویکسین لگوانے سے انسانی جان بچائی جا سکتی ہے۔ نیو ساوتھ ویلز کے محکمہ صحت میں تحفظ صحت کی ڈائریکٹر کیرا گلاسگو کا کہنا ہے کہ شہریوں کو یہی سمجھنا چاہیے کہ ہر چمگادڑ اس خطرناک وائرس کی حامل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وائرس ریبیز کے وائرس سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور انسانی زندگی کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ حکام نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ چمگادڑوں کو چھونے، پکڑنے یا سنبھالنے کی بالکل کوشش نہ کریں۔ اگر کسی شخص کو چمگادڑ کاٹ لے یا زخمی کر دے تو فوری طور پر متاثرہ جگہ کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھوئیں اور فوراً ہسپتال سے رجوع کریں، کیونکہ بروقت طبی مدد ہی اس مہلک وائرس سے بچاو کی ضامن ہے۔
News Source: Express News