بلغاریہ کے قریب بحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوب گیا، 11 افراد لاپتا

News Image

بلغاریہ کے ساحل کے قریب بحیرہ اسود میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک مال بردار جہاز ڈوب گیا جس کے بعد عملے کے 11 ارکان لاپتا ہو گئے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق بلغارین حکام نے بتایا کہ گنی بساو کے پرچم تلے چلنے والا مال بردار جہاز "ایچ ایس ڈگنٹی" ساحل سے تقریباً 15 بحری میل دور ڈوب گیا۔ جہاز پر 16 افراد سوار تھے جن میں سے 5 کو دیگر تجارتی جہازوں نے بچا لیا جبکہ باقی 11 لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد شامی اور مصری شہری ہیں۔ ابھی تک ڈرون حملے کی ذمہ داری کسی گروہ یا ملک نے قبول نہیں کی ہے، البتہ امریکا، اسرائیل، ایران کشیدگی اور حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے باعث کارگو جہازوں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔ بحیرہ اسود میں ایسی کارروائیوں میں عمومی طور پر یوکرین اور روس بھی ملوث رہے ہیں جو ایک دوسرے کے جہازوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ روز بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ یاد رہے کہ مالٹا کے پرچم اور یوکرینی ملکیت والا دوسرا جہاز "چیلسی تھری" بھی بلغاریہ کے شہر بیالا کے ساحل کے قریب تین ڈرونز کی زد میں آیا تھا۔ بلغارین بارڈر پولیس کے مطابق اس جہاز پر سوار تمام 15 افراد، جن میں سات یوکرینی اور آٹھ آذربائیجانی شہری شامل تھے، بحفاظت نکال لیے گئے۔ کچھ زخمیوں کو طبی امداد بھی دی گئی۔ بلغاریہ کے صدر اور وزیر اعظم نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کے ممکنہ روسی تعلق کی جانب اشارہ کیا، تاہم وزیر اعظم رومین رادیف نے کہا کہ ذمہ داری کسی فریق پر ڈالنے کے لیے ابھی تک کوئی واضح اور حتمی ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے روسی سفیر کو طلب کرنے اور معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا اعلان کیا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ نیٹو نے کہا کہ وہ بحیرہ اسود میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کی وجہ سے بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی اور عالمی غذائی رسد کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم