لاہور ہائی کورٹ میں سمارٹ گلاسز پر پابندی کے لیے درخواست دائر

News Image

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان میں کیمرے سے لیس سمارٹ گلاسز کی فروخت پر پابندی کی درخواست میں جواب جمع نہ کروانے پر اعلی سرکاری افسران کو طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نادرہ بی بی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری ہونے کے باوجود جواب نہ دینے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، سیکرٹری تجارت اور ممبر کسٹمز کو 15 اکتوبر کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ڈپٹی ڈائریکٹر حسن نقوی اور دیگر حکام ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت علی ڈوگر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے این سی سی آئی اے کی جانب سے رپورٹ پیش کی، جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے قانونی مشیر محمد افضل خان نے اتھارٹی کا جواب داخل کرنے کے لیے مزید مہلت مانگی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ نوٹس ملنے کے باوجود باقی فریقین نے جواب کیوں جمع نہیں کروایا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ ”باقی فریقین کو بھی نوٹس بھیجے گئے تھے۔ ان کے جوابات کیوں موصول نہیں ہوئے؟“ عدالت نے کیس کی سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ درخواست گزار نادرہ بی بی نے اپنی درخواست میں مارکیٹوں اور سپر مارکیٹوں میں کیمرے والی عینکوں کی فروخت پر تشویش کا اظہار کیا اور موقف اختیار کیا کہ ان آلات کو لوگوں کی لاعلمی میں خفیہ ریکارڈنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عینکیں سکیورٹی اور پرائیویسی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں اور الزام لگایا کہ ان کی فروخت کے لیے کسی بھی سرکاری ادارے سے منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ متعلقہ حکام سے جواب طلب کرے اور ایسے آلات کی فروخت پر فوری پابندی عائد کرے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم