
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ ملک کے بینکوں پر ہونے والے حالیہ سائبر حملوں میں مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا استعمال کیا گیا ہے، اور انہوں نے مصنوعی ذہانت کے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق سائبر سیکیورٹی اقدامات نافذ کرنے پر زور دیا ہے۔ کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہیکنگ کے کچھ واقعات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ صورتحال کا فوری جائزہ لے کر نقصانات کو کم سے کم کیا جائے اور تمام وسائل تحقیقات پر مرکوز کیے جائیں۔ بڑے بینکوں کو نشانہ بنایا گیا جنوبی کوریا کی پولیس نے کمرشل بینکوں پر سائبر حملوں کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں جن کے نتیجے میں صارفین کا ڈیٹا افشا ہوا ہے۔ ریگولیٹرز اور مقامی رپورٹس کے مطابق متاثرہ یا ہدف بننے والے اداروں میں شنہان بینک، کے بی کوکمن بینک، ہانا بینک اور ووری بینک شامل ہیں۔ حکام نے تاحال نقصانات کے مکمل حجم اور استعمال ہونے والے مصنوعی ذہانت کے مخصوص ٹولز کی تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔ ہانا بینک نے تصدیق کی ہے کہ 89 صارفین کی ذاتی معلومات افشا ہوئیں جن میں نام، شناختی نمبر اور فون نمبر شامل ہیں، تاہم بینک نے واضح کیا کہ صارفین کی مالیاتی معلومات محفوظ رہی ہیں۔ 28 آئی پی ایڈریسز کی شناخت فنانشل سپروائزری سروس اور فنانشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے حملوں سے جڑے 28 آئی پی ایڈریسز کی معلومات مالیاتی اداروں کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ یہ ایڈریسز امریکہ اور جاپان سمیت 12 ممالک میں سامنے آئے ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ضروری نہیں کہ حملہ آور بھی انہی ممالک میں موجود ہوں، کیونکہ ہیکرز اپنی شناخت چھپانے کے لیے دوسرے ممالک کے ایڈریسز استعمال کرتے ہیں۔ فنانشل سروسز کمیشن نے ریگولیٹرز، بینکاری تنظیموں اور متاثرہ اداروں کے سربراہان کے ساتھ ہنگامی اجلاس بھی کیا جس میں بینکنگ سیکٹر کو انتہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی۔ مصنوعی ذہانت کے ٹولز کی تفصیلات تاحال غیر واضح حکام نے باضابطہ طور پر ان سسٹمز کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی یہ تفصیل دی ہے کہ حملوں میں ان کا طریقہ کار کیا تھا۔ جنوبی کوریا کی حکومت کے مطابق یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب ایسے سائبر سیکیورٹی نظام ناگزیر ہو چکے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیے جانے والے حملوں کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دیگر ممالک میں بھی اس نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ستمبر میں آسٹریلیا نے کہا تھا کہ اوپن اے آئی کے ایک ایجنٹ نے جون میں سرکاری ہیلتھ ڈیٹا پورٹل کی فائلوں تک غیر مجاز رسائی حاصل کی تھی۔ اسی طرح ایک تحقیقی ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ ایجنٹس نے کینیڈا کی سرکاری ویب سائٹ ہیک کرنے کی کوشش کی، اگرچہ کینیڈین حکام کا کہنا تھا کہ ان کا سسٹم محفوظ رہا۔
News Source: Express News