
معروف اداکار اور میزبان فیصل قریشی نے شادی شدہ بیٹیوں پر ظلم و ستم اور ناانصافی کے باوجود ان کا ساتھ نہ دینے والے والدین پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس بیٹی کو ماں باپ برسوں لاڈ پیار اور توجہ سے پالتے ہیں، شادی کے بعد اس کے ازدواجی مسائل پر اسی سے آنکھیں پھیر لینا کسی طور سمجھ سے بالاتر ہے۔ حال ہی میں ایک نجی ٹی وی شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے فیصل قریشی نے بیٹیوں سے متعلق اپنے ماضی کے بیان کی وضاحت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس فرسودہ سوچ کو بالکل تسلیم نہیں کرتے کہ بیٹی سسرال سے صرف جنازے کی صورت میں ہی واپس آسکتی ہے۔ اداکار نے کہا کہ والدین اپنی بیٹیوں کی پرورش انتہائی شفقت اور محبت سے کرتے ہیں، تو پھر شادی کے بعد مشکل وقت میں ان کا ساتھ کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟ انہوں نے ایسے والدین کے رویے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا جو بیٹی پر تشدد کے بارے میں جاننے کے باوجود اسے گھر واپس لانے کے بجائے یہ کہتے ہیں کہ وہ صرف اس کی میت ہی قبول کریں گے۔ فیصل قریشی نے اس بات پر زور دیا کہ نوبت اس حد تک پہنچنے ہی کیوں دی جائے جہاں بیٹی کی جان داو پر لگ جائے؟ اگر بیٹی کو سسرال میں ناانصافی یا مارپیٹ کا سامنا ہے تو والدین کا فرض ہے کہ وہ اسے مکمل تحفظ فراہم کریں اور عزت سے اپنے گھر واپس لے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد بھی بیٹی والدین کی ہی اولاد رہتی ہے، اس لیے مشکل گھڑی میں اس کا سہارا بننا لازمی ہے۔
News Source: Express News