سستے گھروں کی فراہمی، معاشی بحالی اور عوامی خوشحالی

News Image

پاکستان کی معیشت کو مہنگائی، روپے کی قدر میں اتار چڑھاو، توانائی کے بحران اور سیاسی غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم سستے گھروں کی فراہمی کا شعبہ معاشی بحالی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلیے اہم امید بن کر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کم آمدنی والے طبقے کو قابلِ برداشت شرائط پر گھر کی تعمیر اور خریداری کیلیے مالی سہولتیں فراہم کی جائیں تو اس سے نہ صرف لاکھوں خاندان مستفید ہو سکتے ہیں، بلکہ تعمیراتی صنعت سے وابستہ متعدد شعبوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق ملک میں تقریباً ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے، جس کا زیادہ بوجھ کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔ اکتوبر میں ہونے والے منصوبہ بندی جائزے میں سالانہ 7 لاکھ گھروں کی طلب کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی لاکھ گھروں کی فراہمی کا تخمینہ پیش کیا گیا، ان اعدادوشمار میں فرق ہو سکتا ہے، تاہم یہ صورتحال ملک میں رہائشی سہولتوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ وفاقی حکومت کی اپنا گھر اسکیم کے تحت اہل افراد کو ایک کروڑ تک قرض فراہم کرنے کی سہولت دی گئی ہے، جس پر ابتدائی 10 سال کیلیے صارف کیلیے مقررہ شرحِ منافع 5 فیصد بتائی گئی ہے۔ اسکیم کے تحت ماہانہ قسط تقریباً 66 ہزار روپے سے شروع ہونے کی تشہیر کی گئی ہے، جبکہ قرض کی واپسی کی مدت 30 سال تک ہو سکتی ہے۔ پنجاب حکومت کی اپنی چھت اپنا گھر اسکیم بھی اس سلسلے میں اہم قدم ہے۔ پروگرام کے تحت اہل افراد کو اپنا گھر تعمیر کرنے کیلیے 15 لاکھ روپے تک بلا سود قرض فراہم کیا جاتا ہے، جس کی واپسی نو سال میں تقریباً 14 ہزار ماہانہ اقساط کے ذریعے کی جاتی ہے۔ سستے گھروں کی تعمیر کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں میں سرگرمیاں بڑھتی ہیں، پورے عمل سے مزدوروں، مستریوں، الیکٹریشنز، پلمبروں، ٹرانسپورٹروں اور چھوٹے کاروباروں کو بھی روزگار اور آمدنی کے مواقع ملتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ کی مقامی ترسیلات میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 7 سے 8 فیصد اضافہ ہوا، یہ تعمیراتی طلب میں بہتری کا اشارہ ہے، تاہم اس اضافے کو مکمل طور پر سبسڈی والے ہاوسنگ قرضوں کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں صرف سیمنٹ کی مقامی فروخت سے تقریباً 108 اعشاریہ 7 ارب روپے سیلز ٹیکس وصول ہوا۔ ماہرین کے مطابق بینکوں کو قرض کی اہلیت جانچتے وقت حقیقی آمدنی، ڈیجیٹل لین دین، کرایے کی سابقہ ادائیگیوں اور مناسب صورتوں میں مشترکہ قرض لینے والوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم