
کچھ آوازیں وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہیں اور ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ استاد نصرت فتح علی خان بھی ایسی ہی عظیم آواز کے مالک تھے جنہوں نے قوالی کو عالمی سطح پر نئی پہچان دی۔ سروں کے شہنشاہ نصرت فتح علی خان کی اٹھہترویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے۔ تیرہ اکتوبر انیس سو اڑتالیس کو فیصل آباد میں آنکھ کھولنے والے استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی منفرد آواز، روح پرور انداز اور بے مثال فن سے پاکستانی موسیقی کو عالمی سطح پر نئی پہچان دی۔ انہوں نے صدیوں پرانے فن قوالی کو جدید موسیقی کے رنگوں سے ہم آہنگ کرکے دنیا بھر کے سامعین کے دل جیت لیے۔ دم مست قلندر، اللہ ہو، علی مولا علی، میرا پیا گھر آیا اور یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے جیسی لازوال قوالیاں آج بھی ان کے فن کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں۔ استاد نصرت فتح علی خان نے بالی وڈ فلموں کے لیے بھی اپنی آواز اور موسیقی کا جادو جگایا۔ کشمیر پر گایا ہوا ان کا گیت جانے کب ہوں گے کم، آج بھی کشمیری عوام کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔ عالمی موسیقی کے میدان میں ان کی کامیابیوں نے پاکستان کا نام روشن کیا۔ نصرت فتح علی خان کے نام سے منسوب ایک سو پچیس آڈیو البمز کا ذکر بھی ان کی غیر معمولی فنی میراث کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ سولہ اگست انیس سو ستانوے کو دنیا سے رخصت ہونے والے استاد نصرت فتح علی خان آج بھی اپنے سروں کے ذریعے زندہ ہیں۔ ان کی آواز صرف موسیقی ہی نہیں بلکہ ایک احساس، روحانی کیفیت اور پاکستان کی بھی پہچان ہے۔
News Source: Express News