سیلینا گومز کو نکوٹین نے کیا نقصان پہنچایا؟ گلوکارہ نے ویپنگ کرنے والوں کو خبردار کردیا

News Image

امریکی گلوکارہ اور اداکارہ سیلینا گومز نے اپنے مداحوں کو ویپنگ اور نکوٹین کے استعمال سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے تجربے میں نکوٹین نے ان کی آواز پر ایسا برا اثر ڈالا ہے جسے بدلنا اب ان کے لیے ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ 34 سالہ فنکارہ نے انسٹاگرام اسٹوریز پر اس حوالے سے بات کی اور اعتراف کیا کہ وہ ماضی میں کافی زیادہ نکوٹین ویپ کرتی رہی ہیں۔ سیلینا نے کہا کہ نکوٹین کی عادت چھوڑنا بے حد مشکل ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ جو لوگ اس لت سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں یا ویپنگ شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں، وہ اس کے ممکنہ نقصانات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ان کے مطابق، یہ عادت ان کی آواز میں تبدیلی کا سبب بنی اور وہ اب اسے پہلے جیسا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اپنی آواز پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے گلوکارہ نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ اگر کسی کو ان کی آواز پسند نہیں تو وہ اسے نہ سنے، انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم، ان کی بنیادی بات یہی تھی کہ نکوٹین کا استعمال ان کے لیے ہرگز اچھا ثابت نہیں ہوا اور وہ دوسروں کو اس سے بچنے کی ترغیب دینا چاہتی ہیں۔ سیلینا نے اعتراف کیا کہ نکوٹین چھوڑنے کی کوشش آسان نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرحلہ واقعی کٹھن ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ اس عادت سے دور رہنے کا سلسلہ برقرار رکھ سکیں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جو کسی لت یا مشکل سے نکلنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، اور کہا کہ وہ بھی اس سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب سیلینا گومز نے اپنی آواز میں تبدیلی کے بارے میں وضاحت کی ہو۔ گزشتہ برسوں کے دوران مداح ان کے بولنے کے انداز اور آواز کے اتار چڑھاو پر مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں انسٹاگرام لائیو سیشن کے دوران ایک مداح کے سوال پر انہوں نے بتایا تھا کہ بعض اوقات ان کا گلا اندر سے سوج جاتا ہے، جس سے آواز پر اثر پڑ سکتا ہے۔ سیلینا گومز نے ماضی میں بھی اپنی صحت کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے 2015 میں بتایا تھا کہ انہیں لوپس نامی خودکار مدافعتی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے اور علاج کے دوران کیموتھراپی بھی کروائی گئی۔ دو سال بعد، اس بیماری کے باعث گردوں کو نقصان پہنچنے پر ان کے گردے کی پیوندکاری کا آپریشن ہوا، جس میں ان کی قریبی دوست فرانسیا رئیسہ نے انہیں گردہ عطیہ کیا۔ گلوکارہ اپنی بائی پولر ڈس آرڈر کی تشخیص اور لوپس کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات سے وزن میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بھی کھلے عام گفتگو کر چکی ہیں۔ وہ معروف سیریز ’اونلی مرڈرز اِن دی بلڈنگ‘ میں اداکاری کے حوالے سے بھی شہرت رکھتی ہیں۔ سیلینا کی حالیہ ویڈیو میں نکوٹین اور آواز کے درمیان تعلق ان کا ذاتی تجربہ اور بیان ہے، اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہر ویپ پینے والے کی آواز لازماً اسی طرح متاثر ہوگی۔ تاہم نکوٹین کی لت چھوڑنا کافی مشکل ہوتا ہے، اور صحت پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کے باعث اس سے دور رہنا ہی دانشمندی ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم