حوثیوں کے خلاف اپنی فوج کسی دوسرے ملک میں نہیں بھیجیں گے: ترکیہ

News Image

ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے باوجود یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی فوج کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر نہیں بھیجے گا۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے جمعرات کو انقرہ میں اپنے ہنگری کے ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ صرف دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ جارحانہ کارروائیوں کے لیے نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دیگر ممالک اس کے دفاع میں اس کا ساتھ دیں گے، تاہم ترکیہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملہ کرنے کے لیے اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔ ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ ترکیہ اور سعودی فوجی حکام سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں اور خاص طور پر فضائی دفاع، برقی جنگی صلاحیتوں اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں ممکنہ تعاون پر غور کیا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ترکیہ پہلے ہی سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی اور تکنیکی امداد فراہم کر رہا ہے جس میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی، ڈرون آپریٹرز اور دفاعی منصوبہ بندی میں معاونت شامل ہے۔ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، تاہم معاہدے کی ترک پارلیمنٹ سے توثیق ہونا ابھی باقی ہے۔ واضح رہے کہ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں نے سعودی شہروں اور تنصیبات پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے اور ریاض اپنے اتحادیوں سے دفاعی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم