
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے ینگ ڈاکٹرز تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ایک بار پھر احتجاج پر مجبور ہو گئے۔ ڈاکٹرز نے او پی ڈی کمپلیکس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں، اس کے باوجود ڈاکٹرز مسلسل اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اسپتال انتظامیہ اور حکومت نے ہمیں فٹبال بنا رکھا ہے، انتظامیہ کہتی ہے حکومت سے پوچھیں کہ تنخواہ کیوں نہیں آئی جبکہ حکومت سندھ کہتی ہے اسپتال انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ ینگ ڈاکٹرز نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ چند روز میں تنخواہیں جاری نہ کی گئیں تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور ایڈمن بلاک سمیت سڑکوں پر بھی مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ڈاکٹرز نے مطالبہ کیا کہ زیر التوا تنخواہیں مکمل طور پر بحال کی جائیں، چاہے معاملہ حکومت سندھ کا ہو یا اکاونٹنٹ جنرل سندھ (اے جی سندھ) کا، متعلقہ حکام اس مسئلے کو فوری حل کریں۔ ینگ ڈاکٹرز نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ 2020 سے تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، اس لیے تنخواہوں میں فوری اضافہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملے پر اس سے قبل محکمہ صحت سندھ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اسپتال انتظامیہ کی کسی انتظامی غفلت کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ نئی ڈائریکٹ پیمنٹ پالیسی کے نفاذ اور اکاونٹنٹ جنرل سندھ کے دفتر میں وینڈر اکاونٹس کھولنے کے لیے درکار طریقہ کار کے باعث ہوئی۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ہاوس آفیسرز کی تنخواہیں اسپتال کے ذریعے چیک کی صورت میں دینے کے بجائے براہ راست ان کے بینک اکاونٹس میں منتقل کی جانی ہیں، جس کے لیے وینڈر اکاونٹس کھولنے سمیت اضافی دستاویزات اور ڈیٹا درکار تھا۔ محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ تمام اسپتال انتظامیہ نے مقررہ وقت کے اندر مطلوبہ فارم، ہاوس آفیسرز کے شناختی کارڈز کی نقول اور سابقہ چیکس کی تفصیلات اکاونٹنٹ جنرل سندھ کے دفتر میں جمع کرا دی تھیں، تاہم ادائیگی کے نئے نظام کے تحت مزید دستاویزات اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ضرورت پیش آنے کے باعث عمل کی تکمیل میں تاخیر ہوئی۔ محکمہ صحت سندھ نے بتایا تھا کہ وینڈر اکاونٹس کھولنے کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور ہاوس آفیسرز کی رکی ہوئی تنخواہوں کی ادائیگی جلد متوقع ہے، جبکہ ہاوس آفیسرز کو درپیش مالی مشکلات کے پیش نظر معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جا رہا ہے۔ تاہم ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ 3 ماہ گزرنے کے باوجود تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ برقرار ہے اور اب مزید انتظار ممکن نہیں، حکومت اور متعلقہ حکام فوری طور پر تنخواہیں جاری کرنے کے ساتھ 2020 سے زیر التوا تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ بھی پورا کریں۔
News Source: Express News