
پی سی بی کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک اسامہ شیرون کا کہنا ہے کہ 16 ریجنل اکیڈمیز ملکی کرکٹ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گی۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی قطعی کوئی کمی نہیں اور اسکول کرکٹ سے شاندار نوجوان کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابر اعظم سمیت دیگر اسٹار کھلاڑیوں کی ڈومیسٹک کرکٹ میں شمولیت ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے بہترین رہنمائی اور سیکھنے کا ذریعہ ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسامہ شیرون نے بتایا کہ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے دباو میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، اسی وجہ سے باصلاحیت نوجوان مقامی سطح پر شاندار کارکردگی کے باوجود عالمی سطح پر اعصابی دباو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ کے تقاضوں، کیمروں اور براہ راست نشریات کے ماحول سے مانوس کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کے زیادہ سے زیادہ میچز براہ راست نشر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کی بنیاد اسکول کرکٹ پر رکھی گئی ہے، جہاں اس وقت تقریباً 1400 اسکولوں میں کرکٹ سرگرمیاں جاری ہیں اور ملک کے 100 اضلاع سے کم و بیش 21 ہزار بچے اس میں شریک ہیں۔ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بچے مرحلہ وار ریجنل انڈر 15، انڈر 17 اور انڈر 19 سے ہوتے ہوئے قومی انڈر 19 ٹیم تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسامہ شیرون کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک نظام میں ریجنل اور ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے متوازی ڈھانچے فعال ہیں۔ ریجنل کرکٹ میں فرسٹ کلاس، نیشنل چیمپئنز کپ اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس جبکہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ میں پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون، گریڈ ٹو گولڈ اور گریڈ ٹو سلور مقابلے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال اسکول کرکٹ میں 21 ہزار بچوں میں سے 147 کھلاڑیوں نے سنچریاں اور 9 نے ڈبل سنچریاں بنائیں، جن میں راولپنڈی کے دو کھلاڑیوں کی 261 اور 266 رنز کی زبردست انفرادی اننگز بھی شامل ہیں۔ ڈومیسٹک اور عالمی کرکٹ کے فرق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی پچز معیاری ہیں، اصل فرق دباو اور کیمروں کا ہوتا ہے۔ اسی لیے ٹی ٹوئنٹی کے تمام میچز اور چار روزہ مقابلوں کے اہم مراحل کی براہ راست کوریج کی جا رہی ہے۔ ڈائریکٹر ڈومیسٹک نے مزید بتایا کہ چیئرمین پی سی بی نے 16 ریجنل اکیڈمیز کی منظوری دے دی ہے جہاں 20 سے 30 منتخب کھلاڑیوں کو بیٹنگ، بولنگ، فیلڈنگ اور وکٹ کیپنگ سمیت مختلف شعبوں میں جدید تربیت فراہم کی جائے گی۔ ایبٹ آباد میں شائقین کی جانب سے کھلاڑیوں کے کھیل میں خلل ڈالنے کے واقعے پر انہوں نے کہا کہ میچ کا انعقاد پی سی بی کا کام ہے مگر امن و امان کی بنیادی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، بابر اعظم جیسے مقبول کھلاڑیوں کی موجودگی میں شائقین کا غیر معمولی جوش بعض اوقات سیکیورٹی چیلنج بن جاتا ہے۔ حیدرآباد اسٹیڈیم سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہاں جلد ڈومیسٹک کرکٹ بحال ہو سکتی ہے، البتہ پی ایس ایل یا انٹرنیشنل میچز کے انعقاد کے لیے اسٹیڈیم اور پچز پر کم از کم ایک سال کام درکار ہوگا۔
News Source: Express News