
امریکا نے متحدہ عرب امارات کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے جدید ہتھیاروں اور متعلقہ فوجی ساز و سامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس مجوزہ دفاعی سودے کی مالیت تقریباً ایک ارب 4 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہے، جس کے تحت متحدہ عرب امارات کو جدید پریسیژن کل ویپن سسٹم دوم کے زیادہ سے زیادہ 10 ہزار رہنمائی پرزے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ نظام فضا سے فضا اور فضا سے زمین دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکے گا۔ مجوزہ پیکیج میں دھماکا خیز وار ہیڈز، راکٹ موٹرز، فیوز، تربیتی وار ہیڈز، تکنیکی دستاویزات، نقل و حمل، انجینئرنگ اور تربیت کی سہولیات بھی شامل ہیں۔ یہ نظام عام 70 ملی میٹر راکٹ کو درست نشانے پر مار کرنے والے ہتھیار میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کم قیمت فضائی اہداف، خصوصاً ڈرونز کے خلاف بھی کارآمد سمجھا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس فروخت سے متحدہ عرب امارات کو موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے، مضبوط دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے اور امریکی افواج کے ساتھ باہمی تعاون کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس تاثر کی نفی کی کہ اس سودے سے خطے میں بنیادی فوجی توازن تبدیل ہو جائے گا یا طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ خیال رہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کو میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔ امریکا نے اسی سلسلے میں مصر اور کویت کے لیے بھی الگ فوجی سودوں کی منظوری دی ہے، جس کے بعد ان تینوں مجوزہ سودوں کی مجموعی مالیت تقریباً 2.27 ارب ڈالر بنتی ہے۔
News Source: Express News