
سلمان علی آغا کا شمار ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 10 سے زائد میچز میں پاکستان کی قیادت کرنے والے کامیاب ترین کپتانوں میں دوسرے نمبر پر ہوتا ہے۔ تاہم سلمان علی آغا کے لیے گزشتہ چند ماہ انتہائی اتار چڑھاو کا شکار رہے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے قومی ٹیم کی قیادت کی تاہم لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے لیے انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا اور اس کے بعد برمنگھم میں تیسرے ٹیسٹ سے قبل انہیں وطن واپس بھیج دیا گیا۔ سلمان آغا نے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے پریذیڈنٹ ٹرافی میں فرسٹ کلاس ٹرپل سنچری اسکور کی لیکن اس کے باوجود ان کے لیے مشکلات ختم نہ ہوئیں۔ اب انہیں پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی سے بھی ہٹا دیا گیا ہے اور سری لنکا کے خلاف سیریز کے اسکواڈ سے بھی باہر کر دیا گیا ہے۔ یوں مختصر عرصے میں سلمان علی آغا نے قومی ٹیم کی قیادت سے ڈراپ ہونے تک کئی بڑے موڑ دیکھے ہیں۔ سلمان علی آغا کو بابر اعظم (85) کے بعد سب سے زیادہ (50) میچز میں پاکستان کی قیادت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ان 50 میچز میں سے 31 میں پاکستان ٹیم کو فتح حاصل ہوئی، 18 میچز میں شکست ہوئی جبکہ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ اس حساب سے سلمان آغا کی قیادت میں ٹیم کی ہار جیت کا تناسب 1.720 رہا جو سرفراز احمد کے 3.620 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ سلمان علی آغا کی قیادت میں قومی ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں 7 میں سے 4 میچز جیتے، 2 میں شکست ہوئی اور ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ مجموعی طور پر ٹیم کی کارکردگی بہتر رہی تاہم کپتان کی ذاتی کارکردگی کئی سوالیہ نشان چھوڑ گئی جنہوں نے 6 اننگز میں 9.28 کی اوسط سے صرف 65 رنز بنائے۔ ان کی اس کارکردگی کے بعد انہیں کپتانی سے ہٹانے کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں اور رواں ماہ ایشین گیمز کے فائنل میں بھارت کے خلاف ٹیم کی قیادت کرنے والے صاحبزادہ فرحان کو اب مستقل ٹی ٹوئنٹی کپتان بنا دیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صاحبزادہ فرحان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بہترین فارم میں تھے اور 6 اننگز میں دو سنچریز اور دو نصف سنچریز کی مدد سے 383 رنز بنائے تھے۔
News Source: Express News