
گوگل نے اے آئی ایج فورسائٹ کے نام سے میک کے لیے ایک نئی ایپ جاری کی ہے جو مقامی اے آئی ماڈلز کی مدد سے میٹنگ کے نوٹس محفوظ کرنے، انہیں ترتیب دینے اور خلاصہ تیار کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ ایپ گرینولا جیسے اے آئی نوٹ ٹولز کے مدمقابل لائی گئی ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ کے بغیر مکمل طور پر آف لائن کام کر سکتی ہے۔ مکمل طور پر ڈیوائس پر فعال گوگل اے آئی ایج فورسائٹ مقامی سطح پر معلومات پروسیس کرنے کے لیے 740 ملین پیرامیٹرز پر مشتمل ایمبیڈنگ جیما 2 ماڈل استعمال کرتی ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یہ ایپ ایپل سلیکون کے لیے خاص طور پر تیار کی گئی ہے اور انٹرنیٹ کے بغیر بھی چل سکتی ہے، جس سے یہ سفر کے دوران یا کمزور انٹرنیٹ والے مقامات پر بے حد کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ یہ ٹول مختلف ایپس پر ہونے والی گفتگو کے علاوہ بالمشافہ ہونے والی میٹنگز کے نوٹس بھی تیار کر سکتا ہے۔ گرینولا جیسا انداز اس ایپ کا انٹرفیس گرینولا سے ملتا جلتا دو حصوں میں تقسیم ڈیزائن استعمال کرتا ہے۔ صارفین ایک جانب اپنے ہاتھ سے مختصر نوٹس لکھ سکتے ہیں جبکہ دوسری جانب اے آئی کے تیار کردہ نوٹس دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایپ میٹنگ کے دوران تحریری ٹرانسکرپٹ بھی تیار کرتی رہتی ہے جبکہ صارف اپنے نوٹس بھی لکھ سکتا ہے۔ صارفین کسی بھی وقت مکمل ٹرانسکرپٹ دیکھ سکتے ہیں یا میٹنگ کے متعلق سوالات پوچھنے کے لیے جیما 4 ماڈل پر مبنی اسسٹنٹ سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ ذاتی نالج بیس کی تیاری فورسائٹ بیرونی دستاویزات کو بھی اپنے اندر شامل کر کے انہیں تلاش کے قابل نالج بیس میں تبدیل کر سکتی ہے۔ اس میں شامل کی جانے والی فائلوں میں پی ڈی ایف، گوگل ڈاکس، مائیکروسافٹ آفس فائلز، سادہ ٹیکسٹ فائلز، مارک ڈاون اور ویب بُک مارکس شامل ہیں۔ یہ ایپ ان معلومات کو میٹنگ کے نوٹس کے ساتھ ملا کر گفتگو کے دوران متعلقہ موضوعات پر فوری جوابات بھی دے سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر میٹنگ میں کوئی شخص کسی ایسے نکتے یا عدد کا ذکر کرے جو پہلے سے شامل دستاویزات میں موجود ہو، تو فورسائٹ فوراً متعلقہ معلومات سامنے لے آتی ہے۔ گوگل مزید لوکل اے آئی ایپس کی آزمائش میں مصروف یہ ایپ اپریل میں گوگل کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک تجرباتی اے آئی ڈکٹیشن ایپ کے بعد لائی گئی ہے جو لوکل ماڈلز پر چلتی تھی۔ وہ پرانا منصوبہ بنیادی طور پر تجرباتی تھا، اور فورسائٹ بھی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ گوگل کے جیما ماڈلز براہِ راست صارف کے کمپیوٹر ہارڈویئر پر کیا کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں جیمینائی اور کلاوڈ سسٹم پر مبنی ویڈیو کالنگ ایپس کے ذریعے گوگل کی دیگر مصنوعات کا حصہ بھی بن سکتی ہے۔ اے آئی میٹنگ ٹولز کی مارکیٹ میں بڑھتا مقابلہ میٹنگز کے لیے اے آئی اسسٹنٹس کی دنیا میں مقابلہ کافی تیز ہو چکا ہے۔ وسپر اور کیلنڈلی جیسی کمپنیوں نے بھی حال ہی میں اپنے نوٹ ٹیکنگ ٹولز پیش کیے ہیں۔ اس کے علاوہ سپر ہیومن، جو پہلے گرامرلی کے نام سے معروف تھی، نے بھی پچھلے ماہ فیدم نامی ایک اور اے آئی میٹنگ اسسٹنٹ کو خرید لیا تھا۔ گوگل کی اس ایپ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کلاوڈ سرورز پر انحصار کیے بغیر براہِ راست کمپیوٹر پر آف لائن رہ کر کام کرتی ہے، جس سے ٹرانسکرپشن اور میٹنگ کے تجزیے کے لیے انٹرنیٹ کی محتاجی ختم ہو جاتی ہے۔
News Source: Express News