اسکندر مرزا: پاکستان میں پہلے مارشل لاء کے معمار

اسکندر مرزا: پاکستان میں پہلے مارشل لاء کے معمار

نیوز ڈیسک اسلام آباد: پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ۷ اکتوبر ۱۹۵۸ ایک ایسا دن ہے جس نے ملک کے جمہوری سفر کا رخ بدل دیا۔ اس روز صدر اسکندر علی مرزا نے ۱۹۵۶ کا آئین منسوخ کرتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں، سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کی اور ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اس فیصلے نے پاکستان میں فوجی حکمرانی کی راہ ہموار کی، تاہم اس اقدام کے نتیجے میں اقتدار مضبوط کرنے کی کوشش کرنے والے مرزا خود بھی چند ہی ہفتوں بعد صدارت سے محروم ہو گئے۔ پاکستان کے پہلے صدر کی حیثیت سے اسکندر مرزا ایک ایسے دور میں اقتدار میں آئے تھے جب ملک کو مستحکم جمہوری اداروں کی تشکیل، سیاسی اختلافات کے حل اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم جیسے پیچیدہ مسائل کا سامنا تھا۔ ان کے دور میں حکومتوں کی بار بار تبدیلی اور سیاسی اتحادوں کی کمزوری نے نظامِ حکومت کو غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار کر رکھا تھا۔ تاہم، سیاسی بحران کا حل آئینی اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرنے کے بجائے مرزا نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جس نے منتخب اداروں کو ختم کر کے فوج کو براہِ راست اقتدار میں آنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سول اور فوجی قیادت کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ جمہوری نظام سے مارشل لاء تک کا سفر اسکندر علی مرزا ۱۳ نومبر ۱۸۹۹ کو برطانوی ہند کے شہر مرشد آباد میں پیدا ہوئے۔ ایک ممتاز خاندان سے تعلق رکھنے والے مرزا نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز فوجی خدمات سے کیا، جس کے بعد وہ انتظامی امور اور سرکاری ذمہ داریوں کی جانب آگئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے اہم حکومتی عہدوں پر خدمات انجام دیں اور بالآخر ۱۹۵۵ میں گورنر جنرل بن گئے۔ مارچ ۱۹۵۶ میں پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا تو ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا اور اسکندر مرزا نے صدر کا منصب سنبھال لیا۔ یہ پیش رفت پاکستان کے آئینی سفر میں ایک اہم سنگِ میل تھی، کیونکہ ملک آزادی کے بعد تقریبا نو برس تک ایک مستقل آئینی نظام کی تشکیل کے لیے کوشاں رہا تھا۔ لیکن آئین کے نفاذ سے سیاسی استحکام کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ حکومتوں کی تبدیلی، سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور مشرقی و مغربی پاکستان کے مابین نمائندگی اور اختیارات سے متعلق تنازعات نے نظامِ حکومت کو مسلسل دباو میں رکھا۔ ان حالات میں مرزا نے ۷ اکتوبر ۱۹۵۸ کو آئین منسوخ کرنے اور مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے جنرل محمد ایوب خان، جو اس وقت پاک فوج کے کمانڈر ان چیف تھے، کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ اس اقدام کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں اور منتخب اداروں کو محدود کرنے کے ساتھ فوج کو ملکی معاملات میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ یوں سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے اٹھایا گیا قدم خود پاکستان کے آئینی اور جمہوری نظام کے لیے ایک بڑے بحران کا آغاز بن گیا۔ جس جنرل کو اختیار دیا، اسی نے اقتدار چھین لیا اسکندر مرزا کے سیاسی کیریئر کا سب سے اہم اور متضاد پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جس فوجی قیادت کو اپنے اقتدار کے تحت مارشل لاء چلانے کی ذمہ داری سونپی، چند ہی ہفتوں بعد اسی قیادت نے انہیں صدارت سے ہٹا دیا۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۸ کو جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو اقتدار سے الگ کر دیا اور خود صدر بن گئے۔ اس کے بعد مرزا کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے باقی برس گزارے۔ یہ واقعہ محض اقتدار کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اس حقیقت کا اظہار بھی تھا کہ سیاسی بحران کے حل کے لیے فوج کو غیر معمولی اختیارات دینے کے نتائج خود سویلین قیادت کے قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ مرزا نے مارشل لاء کے نفاذ کے ذریعے سیاسی نظام کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کی، لیکن اس فیصلے نے بالآخر ان کی اپنی صدارت کا خاتمہ کر دیا۔ اس واقعے نے پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ فوجی قیادت، جسے ابتدا میں آئینی عہدے پر فائز صدر نے غیر معمولی اختیارات دیے تھے، جلد ہی اقتدار کا اصل مرکز بن گئی۔ اکتوبر ۱۹۵۸ کے دور رس اثرات ایوب خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہوا جس میں فوجی قیادت نے ملکی سیاست اور انتظامی نظام پر گہرا اثر قائم کیا۔ آئینی اور نمائندہ اداروں کی حیثیت محدود ہوئی اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں نے جمہوری عمل کی نشوونما کو متاثر کیا۔ اگرچہ پاکستان میں فوج اس سے پہلے بھی قومی سلامتی اور حکومتی معاملات میں اہم کردار ادا کرتی رہی تھی، لیکن ۱۹۵۸ کے مارشل لاء نے فوجی قیادت کے براہِ راست سیاسی اقتدار کی ایک واضح مثال قائم کی۔ بعد کی دہائیوں میں پاکستان کو مزید فوجی ادوار کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر دور کے اپنے سیاسی اور انتظامی حالات تھے، تاہم ۱۹۵۸ کے واقعات کو ملک میں فوجی مداخلت اور آئینی تسلسل کے بحران کو سمجھنے کے لیے ایک اہم تاریخی حوالہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس دور کا ایک بنیادی سبق یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور حکومتوں کی کمزوری کو جمہوری ادارے ختم کرنے کا جواز بنا لیا جائے تو اس کے اثرات فوری سیاسی تبدیلی سے کہیں زیادہ دور رس ہو سکتے ہیں۔ سیاسی استحکام کی تلاش اور آئینی بحران اسکندر مرزا کے فیصلوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس دور کے سیاسی حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اپنے ابتدائی برسوں میں ایک مستحکم پارلیمانی نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات، حکومتوں کی تبدیلی اور وفاقی ڈھانچے سے متعلق تنازعات نے حکمرانی کو مشکل بنا دیا تھا۔ اس وقت سخت انتظامی اقدامات کے حامی سیاسی عدم استحکام کو موثر حکمرانی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے تھے۔ تاہم، آئین کی منسوخی اور منتخب اسمبلیوں کی تحلیل نے سیاسی مسائل کے حل کے لیے جمہوری اداروں کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں مزید کمزور کر دیا۔ مرزا کی برطرفی نے اس فیصلے کے ایک بنیادی تضاد کو بھی نمایاں کیا: فوجی مداخلت کو سیاسی بحران کا حل سمجھنے والی قیادت بالآخر اسی مداخلت کے سامنے بے اختیار ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اسکندر مرزا کی سیاسی میراث کو صرف پاکستان کے پہلے صدر کی حیثیت سے نہیں دیکھا جاتا، بلکہ ان کے دور کو ملک میں جمہوری اداروں کی کمزوری، آئینی انقطاع اور سول ملٹری تعلقات کی پیچیدگیوں کے تناظر میں بھی سمجھا جاتا ہے۔ جلاوطنی میں اختتام پذیر ہونے والا سیاسی سفر ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۸ کو اقتدار سے محرومی کے بعد اسکندر مرزا نے اپنی زندگی کے باقی سال لندن میں جلاوطنی کے دوران گزارے۔ ان کا انتقال ۱۳ نومبر ۱۹۶۹ کو ہوا، جس روز وہ اپنی ۷۰ویں سالگرہ منا رہے تھے۔ ان کی وفات کے وقت پاکستان کی سیاست اس راستے پر آگے بڑھ چکی تھی جس کی تشکیل میں ۱۹۵۸ کے واقعات نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کا سیاسی سفر اگرچہ ایک دہائی پہلے ختم ہو گیا تھا، لیکن آئین کی منسوخی اور فوج کے براہِ راست اقتدار میں آنے کے اثرات ملک کی سیاسی تاریخ میں برقرار رہے۔ اسکندر مرزا کی میراث ایک پیچیدہ تاریخی سوال کی صورت میں آج بھی سامنے آتی ہے: کیا سیاسی استحکام کے حصول کے لیے جمہوری اداروں کو معطل کرنا واقعی موثر حل ثابت ہو سکتا ہے؟ پاکستان کے ابتدائی سیاسی تجربے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آئینی نظام کی کمزوری وقتی طور پر اقتدار کے مسائل حل کرتی دکھائی دے سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج طویل عرصے تک جمہوری تسلسل، سیاسی نمائندگی اور ادارہ جاتی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۵۸ کا مارشل لاء اسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب ہے، جس میں ایک صدر نے فوج کو اقتدار میں آنے کا راستہ دیا اور پھر خود اسی فیصلے کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہو گیا۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم