
سعودی عرب کی بحری افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد الغریری سے امریکی بحری افواج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر وائس ایڈمرل کرٹ رینشا نے ملاقات کی۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق امریکی بحری کمانڈر اپنے وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے سعودی رائل نیول اسٹاف کے سربراہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سمیت خطے کے اہم آبی راستوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی اہمیت پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں سمندری سلامتی کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ ملاقات کے دوران سعودی اور امریکی بحری کمانڈروں نے سمندری راستوں کو محفوظ رکھنے اور علاقائی استحکام کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ سعودی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس ملاقات کا مقصد دونوں ملکوں کے مابین بحری تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں بحری سلامتی اور آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخری روز سے مسلط کی گئی جنگ کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ یہ وہ اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کو تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا بھر میں تیل اور گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جبکہ خود امریکا میں بھی ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے بھی باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے اور صرف پیشگی اجازت حاصل کرنے والے آئل ٹینکرز کو ہی گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جس کے باعث تیل کی ترسیل کا یہ اہم راستہ بھی تقریبا بند ہو چکا ہے۔ سعودی عرب نے باب المندب میں بحری ناکہ بندی کے معاملے پر مبینہ طور پر امریکا اور اسرائیل سے حوثیوں کے خلاف عسکری تعاون مانگا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے انکار کر دیا تھا اور اسرائیل نے بھی یہ نیا محاذ نہ کھولنے کا فیصلہ کیا۔
News Source: Express News