
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن کے تعلیمی پروگراموں میں بڑے پیمانے پر توسیع، بند اسکولوں کو دوبارہ کھولنے اور پسماندہ علاقوں میں نئی تعلیمی سہولیات قائم کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کے چودھویں اجلاس میں تعلیم کے فروغ، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے، سبسڈی میں اضافے اور تعلیمی معیار میں بہتری لانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ تعلیم سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل صوبے کے روشن مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں اور سندھ بھر میں تعلیمی انفراسٹرکچر مضبوط بنایا جائے۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن کے تحت 3 ہزار 230 اسکول اور تعلیمی مراکز کام کر رہے ہیں، جہاں 10 لاکھ 78 ہزار 252 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ فاونڈیشن اسسٹڈ اسکولز کے 10 لاکھ سے زائد طلبہ سبسڈی میں اضافے سے مستفید ہوں گے، جبکہ ٹی سی ایف کے اداروں میں پڑھنے والے 18 ہزار سے زائد طلبہ بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے۔ سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن کی سبسڈی کی شرحوں میں 2021-22 کے بعد پہلی بار نظرثانی کی گئی ہے۔ اجلاس میں نظرثانی شدہ سبسڈی منظور کی گئی، جس کے لیے سالانہ 7.9 ارب روپے اضافی درکار ہوں گے۔ یہ رقم تعلیمی معیار کی بہتری، سرگرمیوں کے تسلسل اور طلبہ کو بہترین سہولیات فراہم کرنے پر خرچ کی جائے گی۔ اجلاس میں گورنمنٹ کمیونٹی اسکولز اور نان فارمل ایجوکیشن پروگرامز کے لیے بھی سبسڈی بڑھانے کی منظوری دی گئی، جبکہ پسماندہ اور دشوار گزار علاقوں کے لیے خصوصی گرانٹ پیکیج شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن کے بند اسکولز فوری بحال کرنے اور سرکاری تعلیمی سہولتوں سے محروم علاقوں میں نئے اسکول بنانے کی ہدایت کی۔ بنیادی سہولیات سے محروم تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر میں بہتری لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تقریباً 500 گورنمنٹ کمیونٹی اسکولز کو مرحلہ وار فعال کیا جائے گا، جن میں 100 سے زائد طلبہ والے اسکولوں کو ترجیح دی جائے گی۔ پیپلز اسکول ماڈل کے تحت پبلک اسکول ٹنڈو آدم کو فعال کرنے کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تعلیمی نتائج بہتر بنانے، داخلوں میں اضافہ کرنے اور اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد گھٹانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ تجاویز پر بھی غور ہوا اور قابل و تربیت یافتہ اساتذہ کی بھرتی سمیت تعلیمی خدمات میں بہتری کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔
News Source: Express News