سعودی ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والے فرض شناس پائلٹ کی کہانی

News Image

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں جاں بحق پائلٹ کیپٹن حمود علی الکلثمی کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق کیپٹن حمود الکلثمی سعودی عرب کی قومی ایئرلائن ’’السعودیہ‘‘ میں بطور کمرشل پائلٹ فرائض انجام دے رہے تھے۔ وہ 8 اکتوبر 2026 بروز جمعرات اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود تھے جب حوثیوں نے ایئرپورٹ کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق 8 اکتوبر کو ریاض کے ہوائی اڈے پر دو حملے کیے گئے۔ پہلے حملے میں ایئرپورٹ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرا حملہ السعودیہ کے ایک طیارے پر ہوا۔ ان واقعات میں تین سعودی شہری جاں بحق اور مختلف ممالک کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ایئرلائن کے مطابق متاثرہ طیارہ زمین پر کھڑا تھا اور اس میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز سمیت عالمی ذرائع ابلاغ نے ان حملوں کا الزام یمن کے حوثی باغیوں پر عائد کیا ہے، جبکہ حوثیوں نے بھی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جبکہ السعودیہ کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر پروازیں اور معمول کی کارروائیاں 8 اکتوبر کی شام چھ بجے تک بحال کر دی گئی تھیں۔ ایئرلائن نے اپنے تعزیتی بیان میں کیپٹن حمود کی پیشہ ورانہ خدمات، کام سے لگن اور ساتھیوں پر ان کے مثبت اثرات کو سراہتے ہوئے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حمود علی الکلثمی کسی جنگ میں شریک نہیں تھے بلکہ وہ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے جس کا مقصد شہریوں کو بحفاظت ان کی منزل تک پہنچانا تھا۔ ان کی نماز جنازہ ہفتہ 10 اکتوبر 2026 کو عصر کے بعد جدہ کی مسجد القریقری میں ادا کی جائے گی، جبکہ سوگوار خاندان سے تعزیت کے لیے اتوار 11 اکتوبر 2026 کو جدہ کے علاقے الخالدیہ میں واقع سعودی ایئرلائنز کلب میں انتظامات کیے گئے ہیں۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم