
جرمنی کے جنوبی علاقے باویریا میں ایڈولف ہٹلر کے تاریخی پہاڑی ٹھکانے ایگلز نیسٹ یعنی عقاب کا گھونسلا میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد پولیس نے ایک 33 سالہ جرمن شہری کو حراست میں لے لیا ہے۔ جب فائر فائٹرز جائے وقوعہ پر پہنچے تو عمارت شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔ آگ بجھانے کی کوششوں کے لیے تقریباً 200 امدادی اہلکار تعینات کیے گئے لیکن دشوار گزار پہاڑی راستوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں سخت مشکلات پیش آئیں۔ اطلاعات کے مطابق ہفتے کی صبح تک بھی آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ اس تاریخی عمارت کو بڑے پیمانے پر شدید نقصان پہنچا ہے اور عوام کو متاثرہ علاقے سے دور رہنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب سے ایک 33 سالہ جرمن شہری کو موٹر سائیکل پر فرار ہونے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا اور فی الحال کسی دوسرے مشتبہ شخص کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔ سرکاری استغاثہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی نفسیاتی معائنے میں ملزم کے اندر ذہنی بیماری کی علامات سامنے آئی ہیں جس کی وجہ سے اس کی مجرمانہ ذمہ داری کی نوعیت کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ واقعے کے پیچھے سیاسی محرکات کے امکانات کی چھان بین بھی جاری ہے لیکن فی الحال کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔ ایگلز نیسٹ کی تاریخی اہمیت ایگلز نیسٹ جرمنی کے شہر برشتسگاڈن کے قریب تقریباً 1,800 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ عمارت 1938 میں نازی دور کے دوران تعمیر کی گئی تھی اور دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر اور اس کے قریبی ساتھیوں کے زیر استعمال عمارتوں کا حصہ تھی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد یہ عمارت مکمل تباہی سے بچ گئی اور بعد ازاں ایک مشہور سیاحتی مقام اور پہاڑی ریسٹورنٹ بن گئی۔ آج یہ جگہ نازی آمریت، اس کے مظالم اور تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی ایک یاد دہانی سمجھی جاتی ہے۔ حکام کا موقف باویریا کے وزیر داخلہ یوآخیم ہیرمان نے کہا ہے کہ عمارت کو کسی بھی صورت کھنڈر نہیں بننے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی یادداشت اور ماضی سے سبق سیکھنے کا یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ جرمنی میں ہٹلر سے جڑی تاریخی عمارتوں کو محفوظ رکھنے، انہیں عجائب گھروں میں بدلنے یا مسمار کرنے کے حوالے سے طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔
News Source: Express News