کے فور پروجیکٹ: کراچی کی 96 کلومیٹر طویل 20 مرکزی سڑکیں کھودنے کا فیصلہ

News Image

کراچی میں کے فور پروجیکٹ کے حکام نے بتایا ہے کہ جنوری 2027 میں شہر کی 20 سے زائد مرکزی سڑکیں کھودی جائیں گی، جس کے باعث شہریوں کو شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ اس پروجیکٹ کی تکمیل میں 22 ماہ کا عرصہ لگے گا۔ کے فور آگمینٹیشن کے پروجیکٹ مینجر فیصل جاوید نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ کے فور آگمینٹیشن کی لائنوں کے لیے شہر کی 20 سے زائد مرکزی سڑکیں کھودی جائیں گی، 96 کلومیٹر شہر کی مختلف سڑکیں کھودی جائیں گی، اس کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل جاری ہے اور امکان ہے کہ جنوری 2027 میں کام شروع کر دیا جائے گا جو 22 ماہ میں مکمل ہو گا اور اس طرح کراچی کے شہری دو سال تک بدترین ٹریفک کی صورت حال کا سامنا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے لائنوں کے لیے کی جانے والی کھدائی ایک سے تین کلومیٹر پر کی جائیں گی، پورا شہر ایک ساتھ نہیں کھودیں گے تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگمینٹیشن کی لائنیں ڈالنے پر 72 ارب روپے کی لاگت آئے گی، ممکنہ طور پر لاگت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ اس میں دو بین الاقوامی مالیتی ادارے فنڈنگ کر رہے ہیں اور حکومت سندھ 20 فیصد فنڈ فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی پانی اور سیوریج کے لیے کام کر رہی ہے، پہلے فیز میں تین کام مکمل کر چکے ہیں جو 100 ملین ڈالر کی لاگت سے ہوئے ہیں، ان میں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی لائن نمبر 5، پیپری پمپنگ اسٹیشن پر کام اور لیاری ندی میں لائنوں کو محفوظ بنایا گیا، اس کے لیے 100 ملین ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے تمام منصوبے ساڑھے چار سال میں مکمل ہو جائیں گے، اس کے لیے ایک اعشاریہ 40 ارب ڈالر ملیں گے، جس سے پانی اور سیوریج کی لائنوں کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ فیصل جاوید نے بتایا کہ فیز ون میں ہم نے ڈھائی ارب روپے کی لاگت سے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی لائن نمبر 5 کو تبدیل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آگمینٹیشن کی لائنوں کے لیے شہریوں کے جو تحفظات ہیں کہ پورا شہر ایک ساتھ کھودا جائے گا تو ایسا نہیں ہے کہ ہم مرحلہ وار شہر کی سڑکیں کھودیں گے، ایک سے تین کلومیٹر تک حصے میں لائن ڈال کر پھر اگلے حصے کو کھودیں گے، اس طرح شہریوں کی مشکلات کم ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس سڑک کو بھی کھودیں گے، اس کی تعمیر کی ذمہ داری ہماری ہوگی، ایس ایس جی سی اور کے الیکٹرک کی تنصیبات بھی اس کام کے دوران آئیں گی، ان کو بھی اربوں روپے کی ادائیگیوں کا فارمولا تیار کر لیا گیا ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر سے سوال کیا گیا کہ حسن اسکوائر سے نیپا تک 2 اعشاریہ سات کلومیٹر میں ایک سال لگ گیا تو 96 کلومیٹر میں کتنے سال لگیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ 22 ماہ میں آگمینٹیشن کی لائنوں کا کام مکمل کر لیا جائے گا، لائنوں کا کام مکمل کرکے واٹر کارپوریشن حکام کے سپرد کر دیا جائے گا، جس سے امکان ہے کہ ان لائنوں کا استعمال شروع ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ کے فور کے ذریعے 25 کروڑ گیلن اضافی پانی ملے گا جو کینجھر جھیل سے ملے گا اور یہ پانی ان علاقوں میں فراہم کیا جائے گا جہاں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہے یا وہاں پانی آتا نہیں ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم