سلمان خان کے کالے ہرن کیس پر بننے والی فلم کے خلاف قانونی جنگ مزید پیچیدہ

News Image

بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے 1998 کے کالے ہرن کے شکار کے تنازع پر بنائی جانے والی فلم کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ فلم کے پروڈیوسر نے عدالت سے سلمان خان کی جانب سے دائر کیے گئے نئے مقدمے کی کارروائی روکنے کی درخواست کی ہے۔ پروڈیوسر کے موقف کے مطابق ایک ہی معاملے یعنی ذاتی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی پر بیک وقت دو الگ مقدمات کا سامنا کرنا غیر منصفانہ ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سلمان خان کی جانب سے دائر کردہ نئے مقدمے کی کارروائی روک دی جائے۔ دوسری جانب سلمان خان فلم کی تیاری اور اس سے متعلق تشہیری مواد پر پہلے ہی اعتراضات اٹھا چکے ہیں۔ اداکار کا الزام ہے کہ فلم میں ان کے 1998 کے کالے ہرن کے غیر قانونی شکار کے تنازع کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی زندگی سے جڑے دیگر واقعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ سلمان خان کے مطابق ان واقعات کو فلم کا حصہ بنانا ان کے ذاتی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ان کی عوامی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ گزشتہ سماعتوں کے دوران پروڈیوسر کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ فلم کو اب تک سنسر بورڈ سے کلیئرنس نہیں ملی اور فی الحال اسے ریلیز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ فلم کا ٹریلر بھی ابھی جاری نہیں ہوا ہے۔ اس معاملے میں اس سے قبل 27 جولائی کو ہائی کورٹ سلمان خان کی درخواست پر فلم کے ٹیزر کی نمائش پر پابندی عائد کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ یوں فلم کی ریلیز سے قبل ہی اس کے حوالے سے قانونی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم