
ایرانی پاسداران انقلاب کے مشیر محمد رضا نقدی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں غیر قانونی سمندری راستے جلد مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے، جہاں سے چوری چھپے جہاز رانی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق محمد رضا نقدی کا کہنا تھا کہ بعض افراد نے آبنائے ہرمز کی چٹانی گزرگاہوں کو دھماکوں سے نقصان پہنچا کر یہ راستے بنائے تھے، جنہیں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے تیل اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان راستوں سے اسمگل ہونے والے تیل کی مقدار بہت کم ہے اور یہ چھوٹی کشتیاں تیل کو بڑے جہازوں تک پہنچانے کا کام کرتی ہیں، تاہم اب ان تمام چور راستوں کو بھی بہت جلد بند کر دیا جائے گا۔ محمد رضا نقدی نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ایرانی مسلح افواج کا ہی ہے اور جب تک امریکا ایران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا، اس وقت تک موجودہ صورت حال برقرار رہے گی۔ دوسری جانب بحری ماہرین اور مانیٹرنگ اداروں کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بحری امور سے متعلق انٹیلی جنس ادارے کلیپر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایران کے علاوہ دیگر خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل ستمبر میں جنگ سے پہلے کی سطح کے 81 فیصد سے زائد بحال ہو چکی تھی۔ کلیپر کے مطابق گزشتہ ماہ وسیع تر مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات 14 دن تک جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کر گئیں۔ یہ اعداد و شمار آبنائے ہرمز کی مکمل بندش سے متعلق ایرانی دعووں اور خطے سے تیل کی بحال ہوتی ترسیل کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں خام تیل کی ترسیل کی بحالی کے دعووں کے باوجود عالمی منڈی میں پیٹرولیم کی قیمتیں بدستور بلند ترین سطح پر ہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔
News Source: Express News