
عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں موبائل براڈ بینڈ کی کم رسائی اور بجلی کی فراہمی میں رکاوٹیں مصنوعی ذہانت کے وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کو محدود کر رہی ہیں۔ اکتوبر 2026 کی معاشی رپورٹ کے مطابق پاکستان ایک مضبوط باصلاحیت افرادی قوت بھی تیار کر رہا ہے، جہاں سالانہ تقریباً 75,000 آئی ٹی گریجویٹس پیدا ہو رہے ہیں جبکہ مالی سال 26-2025 میں آئی سی ٹی سروسز کی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ براڈ بینڈ اور بجلی اہم رکاوٹیں ہیں عالمی بینک نے کہا ہے کہ خطے میں انٹرنیٹ کا استعمال آمدن کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دیتا ہے، مگر اصل مسئلہ انٹرنیٹ کے معیار، گہرائی اور بجلی کی مسلسل دستیابی کا ہے۔ پاکستان ان آٹھ معیشتوں میں شامل ہے جہاں موبائل براڈ بینڈ کا تناسب آمدن کی نسبت کم ہے۔ دیگر ممالک میں جبوتی، مصر، عراق، اردن، عمان، شام اور یمن شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 95.7 فیصد آبادی کو بجلی تک رسائی حاصل ہے جبکہ موازنہ کیے گئے دیگر 15 ممالک میں یہ رسائی 99.5 فیصد سے زائد ہے۔ پاکستان میں باصلاحیت افرادی قوت کی تیاری ان بنیادی کمزوریوں کے باوجود عالمی بینک پاکستان کو باصلاحیت معیشتوں کی صف میں شمار کرتا ہے۔ ملک 2030 تک ایک ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت مصنوعی ذہانت کی خود مختاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس منصوبے میں مشترکہ جی پی یو انفراسٹرکچر، کثیر لسانی ماڈل، 1,000 پی ایچ ڈی اسکالرشپس اور دس لاکھ افراد کے لیے تربیت شامل ہے۔ کلاڈ پلیٹ فارم کے استعمال میں پاکستان سب سے آگے اینتھروپک کے کلاڈ پلیٹ فارم کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے خطے میں سب سے زیادہ بات چیت ریکارڈ کی۔ تاہم یہ استعمال زیادہ تر گرافک ڈیزائننگ، مواد کی تیاری اور ترجمے جیسے شعبوں میں دیکھا گیا، نہ کہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں۔ یہ رجحان عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں پاکستانی فری لانسرز کی بڑی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈیٹا سیٹس میں اردو زبان کی کم نمائندگی عالمی ڈیٹا سیٹس میں اردو کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔ جولائی 2026 میں کامن کرال کے جمع کردہ ڈیٹا میں اردو کا حصہ صرف 0.03 فیصد تھا، جبکہ ہگنگ فیس کے اوپن سورس ڈیٹا سیٹس میں یہ تناسب 0.6 فیصد ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ زبان کی کم نمائندگی کے باعث مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت کے نتائج کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ چھوٹی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا حل عالمی بینک کے مطابق ممالک کو تیز رفتار انٹرنیٹ کے مکمل پھیلاو کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ کم لاگت اور مخصوص مقاصد کے لیے تیار کردہ چھوٹے ماڈلز استعمال کر سکتے ہیں جو کم بینڈوڈتھ، بنیادی فونز اور وقفے وقفے سے آنے والی بجلی پر بھی کام کر سکتے ہیں۔ پاکستان مقامی ضروریات اور زبان کے مطابق ایسے حل تیار کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان کے پاس ایک بڑی ٹیکنالوجی ورک فورس موجود ہے مگر براڈ بینڈ، بجلی اور اردو ڈیٹا کی کمی اس ٹیکنالوجی کے معیشت میں مکمل نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔
News Source: Express News