سندھ: فلور ملز کو 15 اکتوبر سے رعایتی نرخوں پر سرکاری گندم جاری کرنے کی منظوری

News Image

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی حکومت کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے، مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں کے تحت 15 اکتوبر 2026 سے سرکاری گندم 100 کلوگرام کی بوری 12,500 روپے کی رعایتی قیمت پر جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ ہاوس میں محکمہ خوراک کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزرا مکیش کمار چاولہ، جام خان شورو اور مخدوم محبوب زمان، مشیر گیان چند اسرانی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل، سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ صوبے میں گندم کے ذخیرے کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو 15 اکتوبر سے گندم کی فراہمی شروع کرنے اور مارکیٹ کے رجحانات پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی تاکہ حکومتی اقدام کا اصل فائدہ آٹے کے نرخوں میں کمی کی صورت میں صارفین تک پہنچ سکے۔ اجلاس کے دوران محکمہ خوراک نے رواں سال دستیاب گندم کے ذخیرے اور گزشتہ سال کی تقسیم کے اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ وزیر خوراک مخدوم محبوب زمان نے بتایا کہ اس وقت صوبے کے مختلف اضلاع میں سرکاری گوداموں میں مجموعی طور پر 346,414 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ پاسکو سے 190,000 میٹرک ٹن اور درآمد شدہ گندم سے 300,000 میٹرک ٹن صوبائی ذخائر میں شامل کی جائے گی، جس کے بعد اجرا کے لیے دستیاب گندم کی مجموعی مقدار 836,414 میٹرک ٹن ہو جائے گی۔ بریفنگ کے مطابق کراچی ڈویژن میں اس وقت 135,948 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جو پاسکو اور درآمد شدہ ذخائر کی آمد کے بعد بڑھ کر 565,948 میٹرک ٹن ہو جائے گی۔ مزید برآں، پاسکو کے ذخائر سے حیدرآباد ریجن کے لیے 30,000 میٹرک ٹن جبکہ میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد ریجنز کے لیے 60,000 میٹرک ٹن مختص کیے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال صوبے نے مارکیٹ میں 974,982 میٹرک ٹن گندم جاری کی تھی۔ پاسکو کے اضافی ذخائر اور درآمدی گندم کی کھیپ سے مارکیٹ میں رسد مضبوط بنانے اور قیمتوں میں اتار چڑھاو کو روکنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کراچی کی اوپن مارکیٹ میں گندم اس وقت تقریباً 13,200 روپے فی 100 کلوگرام کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے، جبکہ ریٹیل آٹے کی قیمت 165 سے 170 روپے فی کلوگرام کے درمیان ہے۔ یکم اکتوبر کو گندم 12,400 روپے فی 100 کلوگرام میں فروخت ہو رہی تھی، جبکہ آٹے کی قیمت 160 سے 165 روپے فی کلوگرام کے درمیان تھی، جو قیمتوں میں مسلسل اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔ گندم کی دستیابی، سبسڈی کے اثرات اور مارکیٹ کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعلیٰ نے 100 کلوگرام کی بوری 12,500 روپے کی رعایتی قیمت پر جاری کرنے کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ اجرا کا عمل 15 اکتوبر 2026 سے شروع کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کا بنیادی مقصد گندم کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانا، قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا اور آٹے کے نرخوں میں غیر معمولی اضافے سے صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم