
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر موجود ایرانی قیادت آج امریکا سے مذاکرات کے لیے ثالثی کرنے والے ممالک کے نمایندوں سے اہم ملاقات کرے گی۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے ساتھ مذاکرات کے ثالثوں سے ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ کشیدگی میں کمی لانے اور سفارتی راستہ بحال کرنے کی کوششوں پر بات چیت کریں گے۔ ان مذاکرات کے دوران ایران کی جانب سے پیش کیے گیے سات روزہ منصوبے میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور کیا جایے گا جس میں آبنایے ہرمز کو کھولنے اور جنگ بندی کی بحالی کی تجاویز شامل ہیں۔ نیویارک میں اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار نبھانے والے پاکستان اور قطر کے اعلی حکام بھی موجود ہیں جن سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ قطری ثالث بھی نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے جس کے بعد ان کی امریکی حکام سے بھی الگ بات چیت متوقع ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان جنگ کو بڑھاوا دینے کے بجایے امن کی کوشش کے لیے نیویارک گیے تھے۔ وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران حقیقی سفارت کاری کے لیے تیار ہے اور بات چیت کے ذریعے تمام مسایل حل کرنے کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے، تاہم ایران کسی بھی جارحیت کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ عباس عراقچی نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ایران سنجیدہ سفارت کاری کے لیے تیار ہے تاہم امریکا کی جانب سے کسی نیے حملے کی صورت میں بھرپور مقابلہ کرے گا چاہے جنگ انتہایی تباہ کن حد تک ہی کیوں نہ پہنچ جایے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارتی حل کی کوشش جاری رکھے گا لیکن اگر امریکا کے کسی نیے حملے سے صورت حال انتہایی تباہ کن جنگ کی طرف بھی چلی گیی تب بھی ایران اپنے موقف پر مضبوطی سے قایم رہے گا۔
News Source: Express News