
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام میں ٹھوس پیشرفت کے بدلے اس پر لگی ہویی معاشی پابندیاں نرم کرنے اور منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی نشریاتی اداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن ثالثوں کے ذریعے تہران کے ساتھ مثبت اور تعمیری بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے واضح کیا کہ ایٹمی معاملات پر ٹھوس پیشرفت کے بغیر تہران کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔ اس معاملے پر ٹرمپ حکومت اپنے موقف پر سختی سے برقرار ہے۔ عالمی میڈیا کے سوال پر امریکی ایوان صدر نے فوری طور پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیویارک میں قطری ثالثوں سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے سے متعلق تہران کی تازہ تجاویز پر بات ہوگی۔ قطری وفد ایرانی وزیر خارجہ سے بات چیت کے بعد نیویارک میں موجود امریکی حکام سے الگ ملاقات کرے گا جس میں وہ تہران کے خیالات سے امریکی حکام کو باخبر کریں گے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ان مذاکرات میں ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے پیش کردہ سات روزہ منصوبے کے مسودے پر بات چیت کا امکان ہے۔ تاہم امریکی وفد کی قیادت کون کرے گا، اس حوالے سے تفصیلات ابھی سامنے نہیں ا سکیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے سمندری راستے کھولنے اور جنگ بندی سے متعلق ایرانی پیشکش کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ تاہم امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کی امید رکھتے ہیں۔
News Source: Express News