
امریکی پوسٹل انسپکشن سروس نے جعلی ڈاک ٹکٹوں کے بڑے نیٹ ورک کو چلانے کے الزام میں مطلوب پاکستانی شہری فہیم اکرم کی گرفتاری اور سزا دلانے میں مددگار معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر تک کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے شہر خانیوال سے تعلق رکھنے والا تتیس سالہ فہیم اکرم پر لیبلز بینک ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ چلانے کا الزام ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر لاکھوں جعلی امریکی پوسل سروس شپنگ لیبلز فروخت کیے گئے۔ حام حکام نے اس ویب سائٹ کو پہلے ہی ضبط کر کے بند کر دیا ہے۔ پانچ ملین سے زائد جعلی لیبلز فروخت کرنے کا الزام امریکی حکام کے مطابق پانچ ہزار دو سو سے زائد گاہکوں نے مبینہ طور پر اس پلیٹ فارم سے اکاون لاکھ سے زائد جعلی شپنگ لیبلز خریدے۔ اطلاعات کے مطابق یہ جعلی لیبلز فکسڈ قیمتوں پر فروخت کیے جاتے تھے، جو پیکج کے وزن، سائز یا منزل سے قطع نظر اکثر دو ڈالر فی لیبل کے حساب سے ہوتے تھے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس مبینہ کارروائی کی وجہ سے امریکی پوسٹل سروس کو بغیر ادا شدہ ڈاک ٹکٹوں اور کھوئے ہوئے ریونیو کی مد میں ایک سو چھبیس ملین ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔ معلومات دینے پر ایک لاکھ ڈالر انعام امریکی پوسٹل انسپکشن سروس اب فہیم اکرم کی گرفتاری اور سزا کا باعث بننے والی معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر تک کا انعام دے رہی ہے۔ جس کسی کے پاس بھی اس کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات ہوں، اسے پوسٹل انسپکٹرز سے ایک اٹھاسی ستتر چھبیس پینتالیس پنپن پر رابطہ کرنے اور لاء انفورسمنٹ کہنے کا کہا گیا ہے۔ حکام نے عوام کو یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ خود اسے پکڑنے کی کوشش نہ کریں۔ وفاقی الزامات فہیم اکرم کو امریکہ کو دھوکہ دینے کی سازش، جعلی پوسج لیبلز بنانے اور فروخت کرنے، اور وائر فراڈ سمیت دیگر الزامات کا سامنا ہے۔ عدالت میں ابھی تک ان الزامات کا ثبوت نہیں ملا ہے، اور جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے فہیم اکرم کو بے گناہ سمجھا جاتا ہے۔
News Source: Express News