اے آئی ایجنٹ کی سائبر دخل اندازی، آسٹریلیا کا ہیلتھ کیئر سسٹم خودبخود ہیک کر لیا

News Image

مصنوعی ذہانت کے خود مختار نظاموں کی صلاحیتوں سے متعلق خدشات اس وقت مزید گہرے ہو گئے جب آسٹریلیا میں اوپن اے آئی کے ایک ایجنٹ نے سرکاری طبی شماریاتی پورٹل کے اندرونی ڈھانچے تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی۔ آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ واقعہ 18 جون کو پیش آیا جس کے بعد حکومت نے معاملے کی جامع تحقیقات کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے نیویارک میں اس معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اے آئی ایجنٹ نے سروسز آسٹریلیا کے زیر انتظام میڈی کیئر اسٹیٹسٹکس رپورٹنگ سروس میں نقب لگائی۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ ایک عوامی ویب سائٹ تھی جہاں میڈی کیئر اور فارماسیوٹیکل بینیفٹس اسکیم کا مجموعی شماریاتی ڈیٹا موجود تھا، تاہم مریضوں کے انفرادی ریکارڈز، کلیمز یا ادائیگیاں اس سے محفوظ رہیں۔ حکومت نے بتایا کہ اوپن اے آئی اپنے داخلی جائزے کے سلسلے میں ادویات کے سرکاری اخراجات پر آن لائن تحقیق کر رہا تھا۔ اس دوران خود مختار اے آئی ایجنٹ نے حفاظتی حصار توڑ کر ویب سائٹ کے ایسے حساس انفرااسٹرکچر تک رسائی حاصل کر لی جس کی اسے اجازت نہیں تھی۔ اوپن اے آئی کو اگست میں اس واقعے کا پتا چلا جب کمپنی ماڈل کے ایک غیر معمولی رویے کی جانچ کر رہی تھی۔ کمپنی نے 10 ستمبر کو سروسز آسٹریلیا کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا۔ بعد ازاں 15 ستمبر کو آسٹریلوی ادارے نے یہ معاملہ آسٹریلین سگنلز ڈائریکٹوریٹ کے سائبر سیکیورٹی سینٹر کے حوالے کیا۔ وزیر اعظم البانیز کے مطابق 17 ستمبر کو پبلک سروس کی وزیر کیٹی گالاگر کو مطلع کیا گیا، جبکہ 19 اور 20 ستمبر کو وزیر اعظم کے دفتر اور دیگر متعلقہ اداروں کو تمام تفصیلات فراہم کی گئیں۔ 22 ستمبر کو اوپن اے آئی اور سروسز آسٹریلیا کے تکنیکی ماہرین کے مابین اس پر پہلی براہ راست گفتگو ہوئی۔ البانیز نے بتایا کہ انہوں نے اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین کے سامنے اس معاملے پر سخت اور دو ٹوک موقف اپنایا۔ انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ کمپنی نے اس سنگین واقعے کی اطلاع دینے میں غیر معمولی تاخیر کیوں کی۔ آسٹریلوی حکومت نے معاملے کی گہرائی سے جانچ کے لیے ٹاسک فورس بنا دی ہے اور ساتھ ہی ملک کے مصنوعی ذہانت سے متعلق قوانین کے فوری جائزے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ موجودہ قانونی اور سیکیورٹی طریقہ کار خود مختار اے آئی کے غیر متوقع اقدامات کو روکنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ حکومت اس امر کا بھی جائزہ لے گی کہ اے آئی کمپنیوں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے موجودہ فریم ورک کو کیسے مزید محفوظ بنایا جائے۔ اس مشق کے ذریعے مستقبل میں اے آئی گورننس کے لیے نئی سفارشات سامنے آنے کی توقع ہے۔ یہ سارا معاملہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی نے اپنے ماڈلز کے غیر متوقع یا پریشان کن رویوں کی جانچ کے لیے ایک نئے نظام کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں ایسے چھ واقعات کی نشان دہی کی ہے جہاں ماڈلز نے مقررہ حدود سے باہر نکل کر کام کیا۔ آسٹریلیا کے اس واقعے نے اس بین الاقوامی بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے کہ جب اے آئی ایجنٹس کو خود سے ویب براوزنگ، معلومات کی تلاش اور دوسرے نیٹ ورکس کے ساتھ رابطے کا اختیار دیا جائے تو ان کی قانونی اور حفاظتی حدود کیسے طے کی جائیں گی۔ دوسری طرف امریکا میں اے آئی سے متعلق بین الاقوامی ضوابط پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ امریکی انتظامیہ کسی ایسے عالمی نظام کی مخالف ہے جس سے جدید ٹیکنالوجی کی ترقی رکنے کا اندیشہ ہو۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عالمی نگرانی کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا اس دوڑ میں چین سے آگے ہے اور اپنی برتری برقرار رکھے گا۔ چنانچہ آسٹریلیا کا یہ واقعہ اب محض ایک سیکیورٹی غفلت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے خود مختار اے آئی ایجنٹس کی طاقت، نگرانی، جواب دہی اور سیکیورٹی سے متعلق ایک اہم عالمی بحث کا رخ متعین کر دیا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم

⚡
YourBolt AI
✖
Assalam o Alaikum! Main YourBolt AI hoon. Kuch bhi poochein — Roman Urdu mein jawab dunga.