
اوپن اے آئی نے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام سے جڑے ہیکنگ کے متعدد متنازع واقعات کے بعد تین ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی نے جمعرات کو بتایا کہ ان ملازمین نے حساس اندرونی معلومات تک رسائی اور انہیں سنبھالنے سے متعلق کمپنی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ کمپنی نے واضح کیا کہ کسی بھی ملازم کو حفاظتی خدشات کی نشاندہی کرنے کی وجہ سے نہیں نکالا گیا۔ اوپن اے آئی کے مطابق بدعنوانی کا یہ معاملہ صرف کسی بیرونی تجزیاتی کمپنی کے ساتھ معلومات شیئر کرنے تک محدود نہیں تھا، تاہم کمپنی نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ سان فرانسسکو میں قائم اے آئی لیب نے برطرف ملازمین کی شناخت کی تصدیق نہیں کی لیکن وال اسٹریٹ جرنل اور بلومبرگ کے مطابق ان میں سے کم از کم دو افراد سیفٹی اور الائنمنٹ کے شعبے میں کام کرتے تھے۔ اوپن اے آئی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی کی تحقیقات سے تصدیق ہوئی ہے کہ ان افراد نے طے شدہ طریقہ کار سے ہٹ کر حساس معلومات کو غلط طریقے سے سنبھالا، ہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی کی اور اس اعتماد کو نقصان پہنچایا جو ادارے کے کام کے لیے ضروری ہے۔ ان ملازمین کی برطرفی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے آئی کی حفاظت اور اس ٹیکنالوجی سے انسانیت کو لاحق ممکنہ خطرات کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ واضح رہے گزشتہ ماہ 27 سالہ محقق جیکب کاکسن نے اے آئی کمپنی اینتھروپک سے استعفی دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اوپن اے آئی سمیت بڑی لیبارٹریاں زیادہ طاقتور ماڈلز تیار کرنے کی دوڑ میں انسانی زندگیوں کے ساتھ جوا کھیل رہی ہیں۔ کاکسن اس سے قبل اوپن اے آئی میں بھی کام کر چکے تھے۔
News Source: Express News