
یمن کی حکومت نے حوثیوں کے قبضے سے اپنے تمام علاقے واگزار کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر شدید حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یمن کے صدر رشاد العلیمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومتی مسلح افواج اس وقت تک کارروائیاں جاری رکھیں گی جب تک دہشت گرد ملیشیا کے قبضے سے ملک کو آزاد نہیں کروا لیا جاتا۔ صدر رشاد العلیمی نے کہا کہ حوثیوں کے خلاف دفاعی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ تنازع کے خاتمے کے تمام مواقع ختم ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے یمن کے علاقائی اتحادیوں اور عالمی شراکت داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن کی حکومتی فورسز اور اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوجی ترجمان نے حوثیوں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل مغربی حکام نے بتایا تھا کہ سعودی عرب اور یمن کے اتحادی حوثیوں پر بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس میں سعودی عرب کی زیر قیادت فضائی کارروائی اور میدان میں یمنی فوج کی زمینی لڑائی شامل ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی تیاریوں سے باخبر 6 ذرائع نے بتایا کہ یمن میں سعودی عرب کو کارروائیوں کے لیے امریکا پہلے ہی انٹیلی جنس تعاون فراہم کر رہا ہے، جبکہ خطے کے چند ممالک اور متعدد یورپی ممالک بھی سعودی عرب کو فوجی اور دفاعی مدد دے رہے ہیں۔ یمن کے حوثی گروپ انصار اللہ نے 2014 سے جاری جنگ کے دوران یمن کے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمال مغربی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے جہاں یمن کی اکثریتی آبادی مقیم ہے، جبکہ ان کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں اتحادیوں کے حملے بھی جاری ہیں۔ انصار اللہ نے گزشتہ ماہ (ستمبر) میں اچانک سعودی عرب اور یمن کے اندر حملوں میں تیزی دکھائی اور اہم اسٹریٹجک سمندری گزرگاہ باب المندب کا کنٹرول حاصل کر لیا، جس کے بعد حوثیوں نے تیل کی ترسیل کا اہم بین الاقوامی راستہ روک دیا۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اندر ریاض میں تیل کی اہم تنصیب آرامکو اور خریص کے علاقوں میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعوی کیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان حملوں سے آگ بھڑک اٹھی، جبکہ سعودی اتحادیوں نے جوابی کارروائی میں یمن پر 50 فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں، تاہم سعودی عرب نے اس حوالے سے تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
News Source: Express News