ہوزری اور نٹ ویئر کی برآمدی صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا

News Image

پاکستان کی ہوزری اور نٹ ویئر کی برآمدی صنعت پیداواری لاگت میں اضافے، ریفنڈز ملنے میں تاخیر اور ریگولیٹری اخراجات بڑھنے کے باعث عالمی منڈی میں مسابقتی حیثیت کھوتی جا رہی ہے۔ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے اس اہم برآمدی شعبے کے تحفظ اور برآمدی آرڈرز کو بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ پی ایچ ایم اے کے سینٹرل چیئرمین ضیا علمدار حسین نے وفاقی سیکریٹری تجارت کو لکھے گئے خط میں کیا۔ خط میں وزارت تجارت سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر ایک مشاورتی اجلاس بلایا جائے جس میں پی ایچ ایم اے کے نمائندوں کے ساتھ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوں، تاکہ درپیش مسائل کا حل نکال کر پاکستان کی مسابقتی حیثیت کا تحفظ کیا جا سکے۔ خط کے مطابق اس وقت ہوزری اور نٹ ویئر کی صنعت کو پیداواری لاگت میں تاریخی اضافے، انتہائی بلند فریٹ چارجز، بجلی کی لوڈشیڈنگ، توانائی کے بلند نرخوں، بھاری ٹیکسوں، پیسوں کی کمی، علاقائی مسابقت اور عالمی منڈی میں کمزور طلب جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈی میں نئے آرڈرز حاصل کرنا اور خریداروں کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ خط میں یہ بھی بتایا گیا کہ سمندری مال برداری کے کرایوں میں 1.5 سے 2.5 گنا تک اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث مصنوعات کی لاگت بڑھ گئی ہے اور برآمد کنندگان کو یہ اضافی اخراجات خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم