
اسرائیل جانے والے طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کے ملزم عمانی نژاد معاون پائلٹ ہمام الحمامی کے بارے میں تفتیش جاری ہے کہ وہ کب، کہاں اور کس ذریعے سے انتہا پسند نظریات کی طرف مائل ہوا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق 29 سالہ ہمام الحمامی پہلے عمان ایئر کے کیڈٹ پائلٹ پروگرام میں شامل ہوا اور 2022 میں معاون پائلٹ کی حیثیت سے پروازیں شروع کیں۔ تاہم 2024 میں عمانی حکام کو اس کے انتہا پسندانہ خیالات اور مواد سے متعلق تحفظات پیدا ہوئے جس کے بعد اسے پرواز سے روک کر انتظامی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس دوران اسے شدت پسندی سے دور کرنے کے ایک پروگرام سے بھی گزارا گیا تھا۔ موجودہ تفتیش کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر عمان میں الحمامی کو خطرہ سمجھا گیا تھا تو وہ بعد میں متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی فلائی دبئی کے کاک پٹ تک کیسے پہنچ گیا۔ رپورٹس کے مطابق اس نے مراکش کی رائل ایئر ماروک میں مختصر تربیت حاصل کی اور پھر فلائی دبئی سے وابستہ ہو گیا۔ تحقیقات میں آسٹریلیا کا پہلو بھی سامنے آیا ہے جہاں وہ 2015 میں میلبورن کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے گیا لیکن کورس مکمل کیے بغیر 2017 میں وہاں سے چلا گیا۔ آسٹریلوی وفاقی پولیس اور انٹیلی جنس ادارہ اے ایس آئی او اس کے رابطوں کی جانچ کر رہے ہیں۔ برطانوی بکنگھم شائر نیو یونیورسٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے فاصلاتی تعلیم کے ذریعے ہوا بازی کے انتظام کا کورس مکمل کیا تھا تاہم وہاں اسے پائلٹ کی تربیت نہیں دی گئی تھی۔ سی این این کے مطابق الحمامی کے سوشل میڈیا اکاونٹس پر ایمن الظواہری اور خودکش حملہ آوروں کی تصاویر کے علاوہ بوئنگ 737 میکس کے کاک پٹ کی ویڈیوز ملیں۔ اس کی بعض پوسٹس میں خواتین سے متعلق سخت خیالات بھی ظاہر ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ شام میں اس کے قیام اور انٹرنیٹ سرگرمیوں کو بھی شدت پسندی کے ممکنہ اسباب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق کسی باقاعدہ دہشت گرد تنظیم یا غیر ملکی ریاست سے اس کے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور اسے تنہا کارروائی کرنے والا ملزم سمجھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں الحمامی نے کاک پٹ میں تیز دھار آلے سے پائلٹ پر حملہ کر کے طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران طیارہ اچانک ہزاروں فٹ نیچے آیا تاہم شدید زخمی پائلٹ نے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا جس پر عملے اور مسافروں نے ملزم کو قابو کر لیا۔ بعد ازاں جہاز کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ طیارے میں 170 سے زائد مسافر سوار تھے اور ایک بھارتی پائلٹ اور اسرائیلی مسافر نے جہاز کو تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
News Source: Express News