افریقی نومولود بچوں پر متنازع امریکی ویکسین ٹرائل روک دیا گیا

News Image

افریقی ملک گنی بساو میں نومولود بچوں کو ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین دینے سے متعلق امریکا کی پشت پناہی میں کیے جانے والا ٹرائل روک دیا گیا۔ اس منصوبے کو عالمی سطح پر شدید ردِعمل اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تحقیق کے مرکزی سربراہ نے بدھ کو اس کی معطلی کی تصدیق کی۔ ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے محقق فریڈرک شالٹز بوخولزر نے لنکڈ اِن پر لکھا کہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ تحقیق گنی بساو میں آگے نہیں بڑھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس منصوبے کے لیے حکومت کی جانب سے ضروری منظوری نہیں ملی۔ گنی بساو کے وزیرِ صحت کوئنہین نانتوتے اس سے قبل بھی اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی تردید کر چکے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے اخبار دی گارڈین سے پرتگالی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بات حقیقت سے ذرہ برابر بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ اس تحقیق کے لیے امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن سی ڈی سی کی جانب سے 16 لاکھ ڈالر فراہم کیے جانے تھے جبکہ مزید 16 لاکھ ڈالر نجی شراکت داروں کی طرف سے ملنے تھے۔ ان میں بل ایکمین کی حمایت یافتہ پرشنگ اسکوائر فاونڈیشن اور بلیو بیل فاونڈیشن شامل تھیں۔ فلیڈیلفیا کے چلڈرنز ہاسپٹل کے ماہرِ ویکسین پال آفٹ نے مجوزہ تحقیق کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا حل بالکل واضح ہے: رقم حاصل کریں اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو ویکسین لگائیں۔ گنی بساو کی حکومت نے اب محققین کی ویکسینز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ حکام نے پیر کے روز بینڈم ہیلتھ پروجیکٹ کے دفاتر کی تلاشی کے دوران یہ ویکسینیں اپنی تحویل میں لے لی تھیں۔ پال آفٹ کے مطابق گنی بساو کی حکومت کی مدد کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ملک میں تمام نومولود بچوں کو جلد از جلد ویکسین لگانے کا پروگرام شروع کیا جا سکے۔ فی الحال گنی بساو کا منصوبہ ہے کہ تمام نومولود بچوں کو پیدائش کے وقت ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کی پہلی خوراک دینے کا ملک گیر پروگرام 2028 میں شروع کیا جائے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم