وزیر دفاع نے پی ٹی آئی سے 8 سوالات کے جواب مانگ لیے

News Image

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف سے 8 سوالات کے جواب مانگ لیے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے لکھا کہ آج تحریک انصاف کی یہ دلیل مسلسل سننے کو ملی کہ "ہمیں دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی۔" اس جھوٹے دعوے پر میرے تحریک انصاف سے 8 بنیادی سوالات ہیں: 1۔ گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا میں آپ کی حکومت رہی، وفاق میں بھی آپ اقتدار میں رہے، آپ کو دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟ نیشنل ایکشن پلان پر عمل سے کون سی پالیسی روک رہی ہے؟ اپیکس کمیٹی کے اجلاس بلانے سے کون سی پالیسی روک رہی ہے؟ 2۔ دہشت گرد کو دہشت گرد کہنا، افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کی مذمت کرنا، پاک فوج اور عوام پر حملوں کے خلاف کھل کر افواج کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے آپ کو کس پالیسی کی ضرورت ہے؟ 3۔ حالیہ دنوں میں افغانستان کی جانب سے کوہاٹ میں ڈرون حملے کیے گئے۔ آپ کی صوبائی حکومت نے ان حملوں کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کی؟ کون سی پالیسی آپ کو روکتی رہی؟ 4۔ افغان سرزمین سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں اور فوجی جوانوں پر فائرنگ ہوتی ہے، دراندازی ہوتی ہے اور دہشت گردوں کی براہِ راست یا بالواسطہ معاونت کی جاتی ہے۔ آپ نے آج تک کتنی مرتبہ افغان رژیم کا نام لے کر ان سرحدی خلاف ورزیوں پر احتجاج یا مذمت کی؟ اس کے لیے کس پالیسی کی ضرورت ہے؟ 5۔ آپ کے اپنے صوبے میں دہشت گردی کے لیے معاون غیر قانونی معیشت جیسا کہ بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ 13 سال میں آپ نے کون سے عملی اقدامات کیے اور اگر کیے تو وہ بتائیں؟ 6۔ دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیادوں پر اپنی قربانیاں دے رہی ہیں، تم نے ان فورسز سے کتنی دفعہ ان کی پوسٹوں پر جا کر ان سے اظہارِ یکجہتی کیا؟ اور تو اور خیبر پختونخوا کے عوام جو خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تم نے کتنی دفعہ جا کر ان یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھا؟ خواجہ آصف نے مزید لکھا کہ ریاست اور خیبر پختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ کچھ حقائق دیکھنا ضروری ہیں: صوبے کا گزشتہ دو سال کا ڈیٹا: تقریباً 6,200 دہشت گردی کے واقعات، 1,200 شہادتیں اور افغان شہریوں کی جانب سے 37 خودکش حملے کیے گئے۔ صرف رواں سال 14 خودکش حملے ہو چکے ہیں۔ 7۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستِ پاکستان کے بیانیے کو تم مختلف ہتھکنڈوں اور طریقوں سے کنفیوز کیوں کرتے ہو؟ تم خوارج کو خوارج کیوں نہیں کہتے اور ان خوارج کا نام لے کر ان کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ اس کے لیے کون سی پالیسی چاہیے؟ 8۔ ان تمام باتوں سے صرف ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 13 سال کی حکمرانی میں آپ نے کرپشن کو بے پناہ فروغ دیا، صوبے کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، سوشل میڈیا پر آپ کے قومی و صوبائی ممبران ایک دوسرے پر کھل کر کروڑوں اربوں لوٹنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ایک خاتون ایم این اے کھل کر میڈیا پر بیرونِ ملک سے آنے والے کروڑوں روپے کے پارٹی فنڈز خرد برد کرنے کا الزام لگاتی ہیں۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم

⚡
YourBolt AI
✖
Assalam o Alaikum! Main YourBolt AI hoon. Kuch bhi poochein — Roman Urdu mein jawab dunga.