
کلکٹریٹ آف کسٹمز ایئرپورٹ کراچی نے مبینہ طور پر دو جعلی کمپنیوں کے ذریعے 3.2 ارب روپے مالیت کی درامدات کا پردہ فاش کیا ہے اور اس معاملے کو تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ کی کارروائی قرار دیتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی تجویز دی ہے۔ یہ معاملہ پی ٹی اے کے لازمی سرٹیفکیٹس کے بغیر درامد کیے گئے انٹرنیٹ روٹرز کے خلاف کارروائی سے شروع ہوا۔ کسٹمز نے مطلوبہ سرٹیفکیٹس کے بغیر ایئرپورٹ فیسیلیٹیشن یونٹ سے کلیئر کرائے گئے 71,815 روٹرز پر مشتمل 10 گڈز ڈیکلریشنز کی نشاندہی کی، جو ایس آر او 1172 (ون) مجریہ 2021 اور درامداتی پالیسی کی شرائط کی خلاف ورزی تھی۔ بعد ازاں کارروائی مکمل ہونے پر یہ سامان ضبط کر لیا گیا۔ تحقیقات میں اس وقت وسعت آئی جب متعدد افراد نے ایک ہی ڈیکلریشن کے تحت آنے والے سامان کے مختلف حصوں کی ملکیت کا دعوی کیا اور سامان کو الگ الگ چھڑوانے کی کوشش کی۔ اس پر کسٹمز نے ملوث دونوں کمپنیوں کی تفصیلی جانچ پڑتال شروع کی۔ تفتیش کاروں کو معلوم ہوا کہ یہ کمپنیاں مبینہ طور پر کاغذی کمپنیاں تھیں جو بے نامی افراد کے ناموں پر رجسٹرڈ تھیں اور پوشیدہ عناصر انہیں مارکیٹ شناختی تفصیلات کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ ایک کمپنی کا ظاہر کردہ پتہ چاول اور آٹے کی دکان تھا جبکہ دوسری کا پتہ کرائے کا ایک رہائشی مکان تھا۔ ایک کمپنی ایف بی آر میں درامد کنندہ کے بجائے صرف سروس پرووائیڈر یا جنرل آرڈر سپلائر کے طور پر رجسٹرڈ تھی۔ کسٹمز نے یہ بھی پایا کہ دونوں کمپنیوں کے وی بوک یوزر آئی ڈیز بالترتیب 2,983 اور 2,732 منفرد آئی پی ایڈریسز سے استعمال کیے گئے، جن میں سے 1,048 آئی پی ایڈریسز دونوں میں مشترک تھے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد پوشیدہ عناصر نے درامدات، غلط بیانی، پالیسی کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی رقم کی منتقلی کے لیے ایک ہی این ٹی این اور وی بوک شناختی تفصیلات کا استعمال کیا۔ درامدات کے آغاز پر دونوں کمپنیوں کا مشترکہ ظاہر کردہ سرمایہ صرف 2.2 ملین روپے تھا، جو بعد میں زیادہ سے زیادہ تقریباً 77.7 ملین روپے تک پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم ان کی ایک ماہ کی درامداتی سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی ناکافی تھی۔ کسٹمز نے جانچ پڑتال کے دوران سامان کی ظاہر کردہ قیمت میں
News Source: Express News