پی ٹی اے کی 166 مقامات پر موبائل نیٹ ورک میں خرابیوں کی نشاندہی، کمپنیوں کو فوری حل کی ہدایت

News Image

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹیلی کام سروس کے معیار کو بہتر بنانے اور صارفین کی شکایات ازالہ کرنے کے لیے 15 اکتوبر سے 22 اکتوبر کے دوران ملک بھر میں 166 موبائل سائٹس کی مانیٹرنگ کی۔ معائنے کے دوران پی ٹی اے نے موبائل نیٹ ورک کی کوریج، وائس اور انٹرنیٹ سروسز کے معیار سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی۔ ٹیلی کام آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت میں ان مسائل کو حل کریں۔ مانیٹرنگ کی یہ سرگرمیاں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے پی ٹی اے کے 12 زونل دفاتر کے ذریعے کی گئیں۔ ان دوروں میں کراچی، کوئٹہ، جیکب آباد، خیرپور، رحیم یار خان، قصور، پتوکی، کوٹ رادھا کشن، نوشہرہ ورکاں، تورغر، فیصل آباد اور گلگت بلتستان کے علاقے شامل تھے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ نیٹ ورک کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور پاکستان بھر کے صارفین کو مزید قابل بھروسہ ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے کے لیے ٹیلی کام آپریٹرز، متعلقہ اداروں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین مسلسل سست رفتار اور غیر مستحکم موبائل کوریج کی شکایات کر رہے ہیں۔ جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی پی پی کی قانون ساز آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ نوابشاہ میں نہ تو فور جی اور نہ ہی فائیو جی ٹھیک سے کام کر رہا ہے، جبکہ پریزائیڈنگ آفیسر عبد القادر پٹیل نے سوال اٹھایا کہ جب موجودہ سروسز ہی غیر مستحکم ہیں تو فائیو جی کے نفاذ پر کیوں زور دیا جا رہا ہے۔ آئی ٹی کی پارلیمانی سیکرٹری صبین غوری نے کہا کہ فائیو جی 24 شہروں میں دستیاب ہے، اور ملک بھر میں اس کی توسیع میں مزید دو سال لگنے کی توقع ہے۔ سال 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے ڈیٹا پر مبنی پی ٹی اے کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ فور جی صارفین کی اوسط ڈاون لوڈ اسپیڈ 18 اعشاریہ 9 ایم بی پی ایس تھی، جبکہ فائیو جی صارفین کے جڑے رہنے کے وقت کا صرف 3 اعشاریہ 95 فیصد حصہ دستیاب تھا، جو اس کی محدود رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم