
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں صوبے کے ہر ڈویژن میں جدید اسٹروک سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے بھر میں اس وقت چالیس پرائمری اسٹروک سینٹر مکمل طور پر فعال ہیں، جبکہ مزید سترہ مراکز کو رواں سال دسمبر تک فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ اسٹروک پروگرام کے تحت اب تک تین سو چھتیس فالج کے مریضوں کو بروقت اور بہترین علاج فراہم کر کے مستقل معذوری سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ بریفنگ میں مزید آگاہ کیا گیا کہ تمام چالیس پرائمری اسٹروک سینٹرز میں ماہر اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ ضروری طبی عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے، جبکہ فالج کے مریضوں کے ہنگامی اور موثر علاج کے لیے سات سو دس ٹی این کے انجکشن بھی دستیاب رکھے گئے ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز لاہور اور راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جامع اسٹروک سینٹرز پہلے ہی سے فعال انداز میں کام کر رہے ہیں، جبکہ راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور سرگودھا کے بڑے تدریسی اسپتالوں میں رواں سال کے دوران نیورو انجیوگرافی سوئٹس قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ اجلاس میں شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ لاہور سمیت صوبے کے متعدد تدریسی اسپتالوں، چلڈرن اسپتالوں اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں بھی پرائمری اسٹروک سینٹرز قائم کر دیے گئے ہیں یا پھر وہاں فالج کے فوری علاج کے لیے ضروری ادویات اور انجکشن ہر وقت دستیاب کیے جا رہے ہیں۔
News Source: Express News