سعودی عرب کو دفاعی نوعیت کا فوجی تعاون فراہم کر رہے ہیں، فرانسیسی وزیرخارجہ

News Image

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر آ کھڑا ہوا ہے، جہاں حوثیوں کے پے در پے ڈرون اور میزائل حملوں نے عالمی معیشت کی شہ رگ پر وار کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے اہم ترین توانائی مرکز، ساحلی شہر یانبو پر منڈلاتے خطرات اور آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش نے پوری دنیا کو توانائی کے شدید بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ اسی سنسنی خیز اور کشیدہ صورتحال کے بیچ، صدر ایمانوئیل میکرون کے حکم پر فرانس نے سعودی عرب کی حفاظت کے لیے اپنی فوج، جدید ریڈار یونٹس اور فضائی دفاعی نظام فوری طور پر یانبو روانہ کرنے کا فیصلہ کر کے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ مگر سب سے بڑا اور دہلا دینے والا سوال یہ تھا کہ کیا فرانس اب حوثیوں کے خلاف جنگ کا باقاعدہ فریق بننے جا رہا ہے؟ اس بڑھتی ہوئی بے چینی کے دوران فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئیل بیروٹ نے سامنے آ کر صورتحال واضح کی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم جنگ میں شریک ہونے کی کوشش نہیں بلکہ یہ مکمل طور پر ایک دفاعی تعاون ہے۔ ان کے مطابق، ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے شراکت داروں کے تحفظ کے لیے عسکری اثاثے منتقل کیے تھے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ فرانس کسی بھی وقت اس جنگ کا فریق بنے گا۔ دوسری جانب حوثی باغیوں کے حملے اور توانائی کی برآمدات روکنے کے لیے مکمل ناکہ بندی کی دھمکیاں مسلسل سنگین رخ اختیار کر رہی ہیں، جس نے اس تنازع کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم

⚡
YourBolt AI
✖
Assalam o Alaikum! Main YourBolt AI hoon. Kuch bhi poochein — Roman Urdu mein jawab dunga.