
ملاییشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی اہلیہ سیتی حسمہ کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ قومی مزار کے احاطے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیتی حسمہ کی نمازِ جنازہ ریاست سیلنگور کی مسجد الشریف میں ادا کی گیی جس میں ملاییشیا کی اہم سیاسی شخصیات، شاہی خاندان کے افراد اور دیگر معززین نے شرکت کی۔ اس موقع پر مہاتیر محمد کی رہایش گاہ پر بھی تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا، جہاں سیاسی رہنماوں اور شہریوں نے سابق وزیراعظم سے ان کی اہلیہ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کیا اور مرحومہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کا انتقال 28 ستمبر 2026 کو کوالالمپور کے نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں ہوا۔ سرکاری طور پر موت کی وجہ بیان نہیں کی گیی تاہم خاندان کا کہنا ہے کہ وہ انتقال سے ایک روز قبل اسپتال میں زیرِ علاج اور بظاہر خوش و خرم تھیں جس کے بعد اچانک طبیعت بگڑی۔ مہاتیر محمد اور سیتی حسمہ کی شادی اگست 1956 میں ہویی تھی اور دونوں کی رفاقت 70 برس پر محیط رہی۔ ان کے سات بچے ہیں جن میں سیاست دان مخرز مہاتیر، سماجی کارکن مارینا مہاتیر اور کاروباری شخصیت مخزانی مہاتیر شامل ہیں۔ ملاییشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی نہ صرف رفیق حیات اور خاتونِ اول رہی تھیں بلکہ وہ ملک کی ایک اہم سماجی شخصیت بھی تھیں جو عوامی سطح پر بھی کافی سرگرم رہتی تھیں۔ ان کی عوام میں مقبولیت کہیں زیادہ تھی۔ خیال رہے کہ ملاییشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی عمر 101 سال ہے۔ وہ 10 جولایی 1925 کو ریاست کیدہ کے شہر الور سیٹار میں پیدا ہویے اور دو مرتبہ ملاییشیا کے وزیراعظم رہے۔ مہاتیر محمد کی اہلیہ ڈاکٹر سیتی حسمہ محمد علی 100 برس کی تھیں۔ وہ 12 جولایی 1926 کو پیدا ہویی تھیں اور ملاییشیا کی اولین مالے خواتین ڈاکٹروں میں شمار ہوتی تھیں۔
News Source: Express News